22 ستمبر 2012 - 20:30

سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا: ایران کے خلاف جنگ کنٹرول اور انتظام کے قابل نہيں ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے یعنی ممکن ہے کہ بعض ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور بعض ایران کے دشمنوں کا ساتھ دیں / قطعی طور پر امریکی اڈوں کو امریکی سرزمین کا حصہ سمجھ کر نشانہ بنائیں گے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیرعلی حاجی زادہ نے دشمن کی طرف سے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر اینا اور صہیونی ریاست یا پھر امریکہ کے درمیان مستقل طور پر کوئی جنگ قابل تصور نہيں ہے، یعنی یہ کہ امریکہ اور اسرائیل میں سے جو بھی جنگ شروع کرے دوسرا بھی اس میں آ لپکے گا چنانچہ ہم امریکہ کو صہیونی ریاست کے کندھے سے کندھا ملایا ہوا، دیکھتے ہیں اور ہم ہرگز تصور نہيں کرسکتے کہ صہیونی ریاست امریکہ کی اجازت اور منظوری کے بغیر اس طرح کی کسی جنگ کا آغاز کرسکتی ہے اسی بنا پر جنگ شروع ہونے کی صورت میں ہم ان دونوں کے خلاف میدان جنگ میں اتریں گے اور قطعی طور پر امریکہ کے اڈوں کے خلاف بھی لڑیں گے۔ سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا: ایران کے خلاف جنگ کنٹرول اور انتظام کے قابل نہيں ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے یعنی ممکن ہے کہ بعض ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور بعض ایران کے دشمنوں کا ساتھ دیں۔حاجی زادہ نے کہا: ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے منظرنامے متعدد ہونگے اور یہ منظرنامے کنٹرول اور انتظام کے قابل نہيں ہونگے اور اس جنگ میں ہمارے ملک کے اطراف میں امریکی اڈے ـ جو پڑوسی ممالک میں قائم کئے گئے ہیں ـ ہمارے حملوں کا نشانہ بنیں گے اور حتی کہ ان ممالک کے عوام کی طرف سے بھی ان اڈوں کو خطرات لاحق ہونگے۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں ہمارے علاقے کے ایک ملک کے عوام نے چھ امریکی جنگی طیارے منہدم کردیئے، علاقے کے عوام امریکی افواج کے لئے ایندھن منتقل کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور امریکی فوجیوں کو ہلاک کررہے ہیں اور یہ سب کچھ ایسے حال میں ہورہا ہے کہ ہمارا کسی ملک سے کوئی جھگڑا نہيں ہے اب آپ تصور کریں کہ یہ کیسیے ممکن ہے کہ صہیونی ریاست ہم سے لڑنا شروع کردے اور امریکہ اس جنگ میں مداخلت نہ کرے؟ یہ علاقے کے عوام امریکہ کے خلاف نہ لڑیں؟ یہ تصور ممکن ہی نہيں ہے اور یہ جنگ بہت تیزی سے پورے علاقے میں پھیل جائے گی؛ اور یہ سمجھنا بھی درست نہيں ہے کہ جنگ کی صورت میں علاقے کے ممالک غیرجانبداری کا اعلان کریں گے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا: یہ تصور کرنا ممکن نہیں ہے کہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں علاقے کے بعض ممالک غیرجانبداری کا اعلان کریں گے؛ جنگ ہوگی تو علاقے میں کوئی غیرجانبدار ملک نہيں رہے گا، بلکہ یہ ممالک دو فریقوں میں سے ایک کی حمایت کریں گے اور یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہم قطعی طور پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے کیونکہ ہم ان اڈوں کو امریکی سرزمین کا حصہ سمجھتے ہیں اور انہیں قطر، افغانستان یہ بحرین کا حصہ نہيں سمجھتے؛ لڑائی ہوگی تو ہم امریکی سرزمین کے ان حصوں کو ضرور نشانہ بنائیں گے۔

میزائلوں کی تعداد میں اضافے کے اسبابانھوں نے کہا کہ بیرونی خطرات اور دھمکی آمیز بیانات کی وجہ سے میزائلوں کی نشانہ زنی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ میزائلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا گوکہ ہمارے میزائلوں کی رینج مطلوبہ حدتک ہے چنانچہ اس زیادہ فاصلے پر مارنے والے میزائلوں کی ضرورت محسوس نہيں کرتے اور اگر صہیونی ریاست کا مسئلہ نہ ہوتا تو ہمیں میزائلوں کی رینج دوہزار کلومیٹر تک بڑھانے کی ضرورت بھی نہ ہوتی؛ کیونکہ اگر ہم علاقے میں موجود فوجی اڈوں سے پر بیرونی جارحیت کا نشانہ بن جائیں تو تو ہم کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے بھی دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا: ہم یورپ کی طرف سے خطرہ محسوس نہيں کرتے اور یورپ کو اپنا ٹارگٹ تصور کرنے کی ضرورت محسوس نہيں کرتے چنانچہ ہمیں ضرورت نہیں ہے کہ موجودہ 2000 کلومیٹر سے زیادہ مار کرنے والے میزائل تیار کریں؛ گو کہ ہمارے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور مطلوبہ ٹیکنالوجی بھی ہے؛ اور جب ہم اپنے راکٹ خلا تک بھیج سکتے ہیں تو قطعی طور پر زيادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی تیار کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے میزائلوں کی نشانہ زنی کی صلاحیت، تعداد اور معیار میں اضافے کی کوششیں کررہے ہیں۔انھوں نے کہا: جب بھی ہمیں خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ دشمن دشمنی اور جارحیت کے ارادے ظاہرے کرتا اور جارحانہ موقف اپناتے ہیں تو ہمارے میزائلوں کی تعداد میں اضآفہ ہوتا ہے۔

صہیونیوں کی مرحلہ وار پسپائیجنرل حاجی زادہ نے میزائل شیلڈ (‏Missile Shield) اور "لوہے کا گنبد"  (Iron Dome) نامی میزائل دفاعی نظام کے بارے میں کہا: امریکہ کی طرف سے ہمارا مقابلہ بہت پرانا ہے۔ 1980 کے عشرے میں عراق کے ذریعے مسلط کردہ جنگ کے دوران۔ امریکی، دنیا بھر میں ممالک اور کمپنیوں کو ہمیں میزائل اور میزائلوں کے پرزے فروخت کرنے سے، روکا کرتے تھے لیکن آج میزائل دفاعی نظام بنا کر دور جا کر کھڑے ہوگئے ہیں؛ امریکی اور صہیونی ابتدا میں کہتے تھے کہ وہ ہمارے میزائل لانچروں کو تباہ کریں گے، دوسرے مرحلے میں انھوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ ہمارے میزائلوں کو فضا میں تباہ کریں گے جبکہ آج کہہ رہے ہیں کہ کہ وہ نشانہ بننے والے مقامات و تنصیبات کے قریب ہی ان میزائلوں کو نشانہ بنائیں گے؛ ہمارے خیال میں یہ امریکیوں اور اسرائیلوں کی مرحلہ وار پسپائی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اس کام سے بخوبی واقف ہیں اور اس پر عبور رکھتے ہیں جو وہ کررہے ہیں اور ایسا بھی نہيں ہے کہ وہ کام کررہے ہيں اور ہم چین سے بیٹھے ہیں؛ ہم بھی کام کررہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم جن تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ہمارے میزائل بالکل ان ہی تنصیبات کے اوپر پہنچ کر اتریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے میزائلوں کی نشانہ زنی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور ہم نے میزائل فائر کرنے اور نشانے پر لگنے کی ویڈیوز بھی بنائی ہیں جن سے ہماری یہ بات ثابت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ میزائل لانچنگ اور نشانے پر میزائل لگنے کی ویڈیو بنانے اور نشر کرکے ہم نے در حقیقت دشمن کو ایک پیغام دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس البتہ ماضی سے کچھ ایسے میزائل بھی ہیں جن کی نشانہ زنی بہت دقیق (Accurate) نہيں ہے اور ممکن ہے کہ وہ نشانے کے ارد گرد کہیں اتریں! تا ہم ہمارے جدید میزائلوں کے نشانے کی درستگی پر کافی کام ہوا اور ہمارا کام مفید بھی تھا۔آبنائے ہرمز کا امن اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھ میںجنرل حاجی زادہ نے کہا: آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گذرگاہ ہے جس سے ہم بھی استفادہ کررہے ہیں اور پوری دنیا بھی اس سے استفادہ کررہی ہے۔۔ ہم اس آبنائے کی حفاظت یقینی بناتے ہیں اور پوری ہوشیاری سے اس کی نگرانی اور حفاظت کررہے ہیں تا کہ بحری قزاقوں اور بیرونی طاقتوں کی طرف سے اس علاقے کو سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور شرانگیزی نہ ہو۔ انھوں نے کہا: ہم یہ کام اس دن تک جاری رکھیں گے جس دن تک ہم اس آبنائے سے استفادہ کرنے کے اہل ہونگے اور اگر کسی دن اگر ہمیں ایسے حالات کا سامنا ہو کہ ہم اس سے استفادہ نہ کرسکیں تو امریکہ سمیت دوسرے ممالک کو بھی اس سے استفادہ نہیں کرنے دیں گے۔

صہیونی غیر متوقع حادثات کے منتظر رہیںجنرل حاجی زادہ نے صہیونی ریاست کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کی طرف سے ایران پر کسی قسم کی جارحیت تصور سے خارج ہے اور "صہیونیوں کو خاص اور غیر متوقعہ حادثات" کا انتظار کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے ممکنہ حملے کے جواب کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے پروگرام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: "صہیونی ریاست کی طرف سے حملے کی صورت میں ہمارا جواب صہیونی ریاست کے تصور سے بالاتر ہوگا"۔انھوں نے کہا: ظاہر ہے کہ جوابی کاروائی کے بارے میں ہمارا منظرنامہ بالکل خفیہ ہے تاہم انہیں غیر متوقعہ اور خاص قسم کے حادثات کی توقع رکھنی چاہئے۔ انھوں نے کہا: یہ تصور بہت احمقانہ اور سطحی ہے کہ "صہیونی ریاست ڈرونز کے ذریعے یا پھر فضائیہ کے اسکاڈرنز کے ذریعے ہمارے ملک کے چند مقامات کو نشانہ بنائیں گے اور ہم بھی ان کی ایٹمی اور فوجی تنصیبات کو اپنے چند میزائلوں کا نشانہ بنائيں گے اور یہ جنگ یہيں ختم ہوجائے گی؛ ... البتہ صہیونی ریاست کے سرغنے خود بھی جانتے ہیں کہ وہ ایران پر حملے کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہيں یہ صرف نفسیاتی اور تشہیری جنگ کا حصہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے بےخبری میں نشانہ نہیں بنایا جاسکتاجنرل حاجی زادہ ک کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دفاعی نظریئے (Defense Doctrine) میں جنگ شروع کرنے اور کسی ملک پر یلغار کرنے کا تصور نہیں ہے تا ہم، ہم اپنی افواج کو بے خبر رہنے اور دشمن کے اچانک اور غیرمتوقعہ حملے سے دوچار ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ انھوں نے کہا: جب بھی ہمیں معلوم ہوگا کہ دشمن نکل پڑآ ہے اور ہمارے اوپر یلغار کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے تو ہم اپنی فورسز کو غافل اور بےخبر رہ کر دشمن کا حملہ برداشت کرنے کی اجازت نہيں دیں گے۔ ہماری جوابی کاروائیاں دشمن کے تصور سے بالاتر ہیںسپاہ کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا: ہم ہمارے جوابی حملے اور ہمارے جنگی اور جوابی منصوبے صہیونی ریاست کے سرغنوں کو حیرت میں ڈبودیں گے اور ایسے جوابات وصول کریں گے جس کا آج وہ تصور ہی نہيں کرسکتے۔ انھوں نے کہا: 2006 میں صہیونی ریاست نے لبنان پر حملہ کیا تو کوئی بھی یہ نہيں سوچ رہا تھا کہ جنگ کا انجام وہ ہوگا جو سب نے دیکھا؛ صہیونی، امریکی اور دوسرے مغربی ممالک کا خیال تھا کہ لبنان کی حزب اللہ اور مزاحمت تحریک کا مسئلہ بس اب حل ہوچکا ہے؛ حتی کہ امریکی حکام عظیم تر مشرق وسطی کے منصوبے پر غور کرنے لگے تھے لیکن جنگ کا انجام کچھ اور ہوا۔ انھوں نے کہا: انھوں نے اس تصور سے شام میں جنگ کا آغاز کیا کہ وہ شام کو لیبیا میں تبدیل کریں گے اور شام کی جنگ میں چند ہی روز میں ختم ہوگی اور وہ اس جنگ میں بھی کامیاب ہوجائیں گے؛ وہ یہ مسئلہ چند ہی روز میں حل ہونے کی توقع کئے بیٹھے تھے لیکن اب وہ خود ایک عجیب دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ جنرل حاجی زادہ نے کہا: اگر جنگ شروع ہوجائے تو ہمارے تمام جوابی حملے ان کے تصور سے خارج ہونگے اور یہی جنگ ان کی مکمل نابودی کا آغاز ثابت ہوگی جس کے شروع کرنے والے وہ خود ہونگے۔ انھوں نے کہا: اگر ان ہماری جوابی کاروائی کے حوالے سے ان کا تصور یہ ہو کہ ایران کا جواب میزائلوں کے حملوں تک محدود ہوگا تو وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں؛ ہماری صلاحیت میزائل اور اینٹی میزائل نظامات تک محدود نہيں ہے بلکہ ہم ان کے خلاف ہزاروں روشیں بروئے کار لائیں گے اور ہمارا جنگی منصوبہ بہت بھاری اور ان کی سوچ کی حدود سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔انھوں نے کہا: جنگ کا آغاز صہیونی ریاست کے حکام کی جانب سے ہے، ہم جنگ شروع کرنے والے نہيں ہیں کیونکہ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت نہيں ہے لیکن فطری سی