اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مصر اور سعودی عرب کے تعلقات بدترین صورت حال سے دوچار ہوگئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: 1879 میں مصری صدر انورالسادات اور اسرائیلی وزیر اعظم مناخیم بیگن کے درمیان کیمپ ڈيوڈ معاہدے پر دستخطوں کے بعد مصر نے قاہرہ میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا تھا اور اپنے سفیر کے صلاح مشورے کے لئے ریاض بلوایا تھا اور اب جبکہ مصر میں امریکی حمایت یافتہ آمریت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے اور علاقے کے باقیماندہ عرب حکومتیں امریکی حمایت کے حوالے سے حیرت کا شکار ہيں اسی لئے وہ اپنی حفاظت کے لئے ہر قسم کی اعتراض آمیز صداؤں کو کچلنے کے لئے پوری قوت استعمال کرتی ہیں اور جس طرح کہ مصری قانوندان الجیزاوی کو سعودیوں نے ـ عبداللہ بن عبدالعزیز پر اعتراض کرنے کے عوض ـ گرفتار کرلیا ہے، ہر قسم کے قانونی مطالبات کا تمام تر تشدد سے جواب دیتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب میں الجیزاوی کی گرفتاری کو حسنی مبارک کی سرنگونی کے بعد مصر اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کا ثبوت قرار دیا اور لکھا کہ یہ عرب ممالک حتی حسنی مبارک کا تختہ الٹ جانے کے بعد بھی حسنی مبارک کی حمایت جاری رکھے ہوئے تھے۔مصری دانشور اور قانوندان حال ہی میں عمرہ کی غرض سے بلاد الحرمین کے سفر پر گئے تھے جہآں انہيں سعودی سیکورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا اور ان کی گرفتاری کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے کئی مرتبہ سعودی عرب میں مصری شہریوں کی گرفتاری پر آل سعود پر تنقید کی تھی۔آل سعود کو جب مصری عوام کی وسیع احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے اپنی اوقات سامنے آنے کے بعد اس الزام کا سہارا لیا کہ "الجیزاوی سے نشہ آور گولیاں برآمد ہوئی تھیں" لیکن مصری عوام اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور آل سعود نے مصر میں اپنے سفارتخانے اور دیگر سفارتی دفاتر اور قونصلخانوں کو بند کردیا۔
ــ آل سعود نے قاہرہ میں اپنا سفارتخانہ کیوں بند کیاعرب مسائل کے مصری تجزیہ نگار نے مصر میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی بندش کو نہایت شرمناک عمل قرار دیا اور کہا: آل سعود کے حکمران رائے عامہ کو مشتعل کرکے مصریوں کو آپس میں لڑانا اور اس ملک میں فتنہ انگیزی کرنا چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق فکری عبدالمطلب نے کہا: کسی ملک میں کسی ملک کے سفارتخانے کے سامنے عوام کا پرامن مظاہرہ ایک تسلیم شدہ رویہ ہے جو پوری دنیا میں رائج ہے اور جب کسی ملک کے سفارتخانے کے سامنے کسی ملک کے عوام مظاہرہ کریں تو وہ وہ ملک اپنا سفارتخانہ بند نہيں کیا کرتا اور اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع نہيں کیا کرتا۔ انھوں نے کہا کہ سفارتخانے اور قونصلخانوں کی بندش در حقیقت ایک قسم کی بلیک میلنگ ہے اور سعودی حکمران اس طرح مصر کی فوجی کونسل کو مصر کے انقلابی نوجوانوں کے خلاف مشتعل کرنا چاہتے ہيں نیز سعودی حکمران بلادالحرمین میں مقیم مصریوں کو بھی مصر کے انقلابی نوجوانوں کے خلاف مشتعل کرنا چاہتے ہیں تا کہ مصر کا انقلاب ناکام ہوجائے۔ فکری عبدالمطلب نے مصر کی حکومت، اور مصر کی وزارت خارجہ پر تنقید کی کیونکہ ان کی طرف سے سعودی عرب میں مصری عوام کے ساتھ ریاض حکومت کی بدسلوکی اور مصری شہریوں کے رنج غم پر مناسب رد عمل نہيں دکھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ داری فوجی کونسل، پارلیمان کے اکثریتی اخوانی دھڑے پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور سعودی عرب کے تعلقات کی خرابی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایک سعودی جج اور نائب سعودی اٹارنی جنرل مصر میں برائیاں اور بے حیائی پھیلانے والے نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار ہیں چنانچہ آل سعود ان اقدامات کے ذریعے مصر پر دباؤ بڑھا رہا ہے تا کہ ان افراد کو مصری جیلوں سے چھڑوا دے لہذا مصر کو اس حوالے سے ہوشیاری اور دانشمندی سے کام لینا چاہئے اور آل سعود کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ جب سے مصریوں نے سعودی عرب کی طرف سے اپنے ملک میں پھیلائے جانے والے فساد و فحشاء کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا سعودیوں نے مصر کو بلیک میل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ واضح رہے کہ آل سعود کے ہاتھوں مصری قانوندان احمد الجیزاوی کی گرفتاری پر مصریوں نے آل سعود کے سفارتخانے کے سامنے کئی روز تک مظاہرے کئے اور دھرنے دیئے جس کے بعد آل سعود نے ہفتہ (29 اپریل 2012) کے دن مصر میں اپنے سفارتخانے اور قونصلخانوں کو بند کردیا۔ ــ اخوان المسلمین: آل سعود اشتعال انگیزی سے باز رہےمصر کی اخوان المسلمین سے وابستہ سیاسی جماعت "حزب العدالۃ و التنمیہ" نے مصر میں سعودی سفارتی مشنز کی بندش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودی حکمرانوں سے کہا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہیں۔اطلاعات کے مطابق مصر میں سعودی مشنز کی بندش پر مصری عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ مصر بھی سعودی عرب میں اپنا سفارتخانہ بند کرے اور سعودی عرب میں احمد الجیزاوی سمیت تمام مصری شہریوں کے ساتھ آل سعود کے توہین آمیز رویوں کا مناسب جواب دے۔دریں اثناء مصری پارلیمان میں عرب ممالک کے امور سے متعلق کمیشن کے سربراہ "محمد سعید ادریس" نے مصر میں سعودی مشنز کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال عرب ممالک کے تعلقات کی بحرانی کیفیت کی دلیل ہے اور عرب ممالک کے درمیان اس طرح کی صورت حال کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انھوں نے کہا: سعودی سفارتخانے کی بندش کے بعد اس سفارتخانے کے ارد گرد کی حالت پرسکون ہے اور مصری فورسز سفارتخانے کی بندش پر عوامی رد عمل کا سد باب کرنے کے لئے تیاری کرچکی ہیں۔مصر پر مسلط فوجی کونسل کی جانب سے آل سعود کے ساتھ مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن الجیزاوی اور دوسرے مصری شہریوں کی سعودی جیلوں سے رہائی کے بارے میں مصری وزارت خارجہ کوئی وضاحت پیش نہیں کرسکی ہے اور اخوان المسلمین نے آل سعود سے کہا ہے کہ مصر کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہے۔ــ سعودی وزیرخارجہ: مصری شہریوں کو تابوتوں میں لوٹا دیا جائے گاسعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے مصری شہریوں کی گرفتاری پر مصری عوام کے احتجاج پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان مصریوں کی لاشیں تابوتوں میں مصر لوٹا دی جائیں گی؛ چنانچہ ان کی یہ بات زبردست نزاع کی صورت اختیار کرگئی۔اطلاعات کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ سعودی عرب میں قید مصری قانوندان سمیت دوسرے مصری اسیروں کو مارا جائے گا اور ان کی لاشیں تابوتوں میں سجا کر مصر لوٹا دی جائیں گی چنانچہ ان کی یہ بات ایک تشہیری تنازعے میں بدل گئی اور مصر سے حال ہی میں ریاض لوٹائے جانے والے سعودی سفیر نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سے ایسی باتیں منسوب کرنا، ایک نامناسب اقدام ہے۔احمد القطان نے کہا: سعود الفیصل سے ایسی باتیں منسوب کرنا، قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایسی باتیں صدام اور قذافی جیسے لوگ کرسکتے ہیں!۔یاد رہے کہ سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے ابھی تک اپنے سے منسوب دھمکی کی تردید نہيں کی ہے اور احمد القطان نے عراق، مصر، شام، پاکستان اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردوں کی سعودی سرپرستی اور ہزاروں افراد کے قتل میں آل سعود کی شراکت کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر اس طرح کے اقدامات کو قذافی اور صدام کے لئے مناسب قرار دیا اور اس بات کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا کہ آل سعود نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صدام کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنے خزانے کا منہ صدام کے لئے کھول رکھا تھا اور ایران کے خلاف عالمی محاذ کا حصہ تھا اور صرف اس وقت صدام کی مخالفت کرنی پڑی جب صدام نے کویت پر قبضہ کیا اور نجد و حجاز پر قبضے کے سپنے دیکھنے شروع کئے۔
ــ سعودی سیاستدانوں کا موقف؛ سعودی ولیعہد مستبد ترین شہزادہ ہےبڑی تعداد میں سعودی سیاستدان اور سماج شخصیات نے بعض ویب سائٹوں کے توسط سے اپنے مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے نائف بن عبدالعزیز جابرترین اور آمر ترین سعودی شہزادہ ہیں اور وہ ان کی بیعت کے لئے منعقدہ تقریبات میں شریک نہيں ہونگے۔ اطلاعات کے مطابق، سعودی سیاستدانوں کا مشترکہ بیان سعودی سول و پولیٹیکل سوسائٹی (حسم) کی ویب سائٹ پر شائع ہوا اور بیان پر دستخط والوں نے اعلان کیا کہ عوامی سطح پر بھی اور دانشوروں کی سطح پر بھی اس بیان کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے کیونکہ وہ ایسے ملک میں زندگی بسر کررہے ہیں جس کا کئی آئیں نہيیں ہے، کوئی سیاسی جماعت اور سول سوسائٹی کا کوئی ادارہ نہيں ہے۔ بعض دانشوروں اور روزنامہ نویسوں نے اس بیان میں کہا ہے کہ نائف بن عبدالعزيز مستبد ترین، خوفناک ترین اور آمر ترین سعودی شہزادوں میں سے ہیں جو مختلف اسکینڈلوں، تجاوزات و تعرضات کے مرتکب ہوئے ہيں اور یہ تمام کرتوت مستقبل میں ان کے بادشاہ بننے میں رکاوٹ ہیں۔
ــ سعودی عرب: سرگرم شخصیات کی جانب سے ولیعہد کی بیعت تقریب کے بایئکاٹ کی اپیلبلاد الحرمین کی سرگرم سیاسی و سماجی شخصیات اور مفکرین نے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز آل سعود کی بیعت تقریب میں شرکت سے انکار اور عوام و سیاسی و دینی شخصیات کی جانب سے اس تقریب کے بایئکاٹ کی اپیل کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مڈل ایسٹ آنلائن نے ہفتہ 28 اپریل کو لکھا کہ بڑی تعداد میں سعودی سیاسی و سماجی شخصیات، مفکرین اور دانشوروں نے نائف بن عبدالعزیز کے ساتھ مستقبل کے سعودی بادشاہ کے عنوان سے بیعت کرنے سے انکار کردیا ہے اور سیاسی و سماجی شخصیات اور دانشوروں نیز مفکرین نے اپنا متعلقہ بیان سعودی سول و پولیٹیکل سوسائٹی (حسم) کی ویب سائٹ پر شائع کیا۔ حسم 2009 میں تأسیس پانے والا ادارہ ہے اور اس کی ویب سائٹ پر دانشوروں اور فکری و علمی شخصیات کا مشترکہ بیان صارفین کی جانب سے سراہا گیا اور ہزاروں عرب شہریوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔ آل سعود کے حامیوں نے دعوی کیا ہے کہ حسم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کا کوئی خیرمقدم نہیں ہوا اور ویب سائٹ میں آنے والوں میں سے صرف تین فیصد افراد نے اس بیان پر دستخط کئے ہیں جن میں سے 20 افراد بے روزگار تھے! تاہم اس سوسآئٹی کے ایک رکن "فوزان الحربی"، نے سرکاری لابی کے اس دعوے کے رد عمل میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی آئین نہيں ہے، سول سوسائٹی کا کوئی ادارہ نہيں اور اس ملک میں سیاسی جماعتوں کا وجود تک نہيں ہے اور حکومت پر کسی قسم کا دباؤ لانا، جرم سمجھا جاتا ہے، اس کے باوجود اس بیان کا خیرمقدام ایک ایسے ملک میں، بہت اچھا اور خوشآیند تھا۔ فعال سیاسی و سماجی شخصیت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آل سعود کے شہزادوں میں نائف بن عبدالعزيز سب سے زیادہ سفاک، خونخوار، سنگدل اور نہایت مستبد اور خود رائے اور بہت زیادہ بے رحم ہیں۔انھوں نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا ہے کہ اتنے سار