30 جنوری 2012 - 20:30

"نوجوان اور اسلامی بیداری" کانفرنس کے مہمانوں نے پیر کی صبج کو رہبر انقلاب حضرت امام خامنہ ای "مدظلہ العالی" سے ملاقات کی اور کئی ممالک کے نوجوان مندوبین نے اظہار خیال کیا لیکن بحرینی نوجوان کی داستان غربت کی بات ہی اور تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "نوجوان اور اسلامی بیداری" کانفرنس میں شریک مہمانوں نے کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز پیر کی صبح کو رہبر انقلاب حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی سے ملاقات کی اور کئی ممالک کے نوجوان مندوبین نے اظہار خیال کیا لیکن بحرینی نوجوان کی داستان غربت کی بات ہی اور تھی۔ کانفرنس میں دنیا کے 73 ممالک سے 1200 نوجوانوں کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی جہاد اسلام اور حماس تنظیموں کے مندوبین نے بھی شرکت کی اور مصر و لیبیا اور یمن و تیونس، عراق و افغانستان، فلسطین و لبنان اور پاکستان و بحرین کے مندوبین شریک تھے اور وہ کل سب رہبر انقلاب سے ملاقات کے لئے تہران کی حسینیہ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) میں حاضر تھے اور کئی ایک نے اظہار خیال بھی کیا اور واضح کیا کہ ان کے انقلابات اسلامی ہیں، ان کے نعرے اسلامی ہیں، ان کی تحریکیں مسجدوں سے شروع ہوئی ہیں چنانچہ ان کے انقلابات کو غیر اسلامی یا سیکولر یا معاشی بنیادوں پر مبنی سماجی انقلابات کا نام دینے والے لوگ ان انقلابات کے شہداء کے خون کے غدار ہیں۔ملاقات کے آغاز پر نوجوان انقلابیوں کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا تھا سب نے اپنی بات رہبر انقلاب اسلامی اور حاضرین اجلاس تک پہنچادی لیکن اجتماع میں خالص جذبات کا سیلاب اس وقت امڈ آیا جب ایک بحرینی انقلابی نوجوان "احمد حسن حجیری" ڈائس کے پیچھے مائیک کے سامنے آیا۔ بحرینی نوجوان مظلومیتِ مجسم بن کر اشکبار آنکھوں کے ساتھ رہبر انقلاب اسلامی سے مخاطب تھا اور مجلس میں موجود اور شاید ٹی وی اسکرین پر دیکھنے والے ناظرین کی کی آنکھیں بھی اشک بار ہورہی تھی۔ بحرینی نوجوان نے آنسو بہا بہا کر بحرین کے نوجوانوں اور شہداء کی مظلومیت کی داستان صرف چند ہی جملوں میں بیان کی اور شدت گریہ کی وجہ سے اپنا خطاب جاری نہ رکھ سکا۔الحجیری نے کہا: سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول خدا (ص)!میری جان اور ان تمام با استقامت نوجوانوں کی جان فدا ہو آپ ہے؛ اس وقت جب ہمارے نوجوان اور ہمارے شہداء اپنے خون میں تڑپ رہے ہیں، کرامت و وقار کی شمیم امام خمینی کے بوستان میں محسوس کررہے ہیں اور آپ کا کلام یاد کرتے رہتے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نوجوان ـ خاص طور پر بحرین میں ـ ایسی سرزمین پر زندگی بسر کررہے ہیں جس کے فرزند اپنی خاک پر ہی پردیسی اور اجنبی ہیں؟۔ (حاضرین کا گریہ و بکاء)سلام ہو آپ پر اے میرے مولا ... خدا آپ کی حفاظت فرمائے ... انشاء اللہ خدا آپ کو محفوظ رکھے۔عربی متن«سلام علیک یا بن رسول الله...فداک روحی و ارواح هؤلاء الشباب المقاومین جمیعاً. حینما تساقط شهدائنا واحداً تلو الآخر کنّا نشم نسیم الکرامة من حدیقة الامام الخمیني و نتذکر کل کلماتکم المبارکة.هل تعلمون ـ خصوصاً فی البحرین ـ هل تعلمون بأننا فی موطن ابنائه فی ارضهم غرباء؟ ...سلام علیکم مولاي... الله یحفظکم... الله یحفظکم ان شاء الله».۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110