8 اکتوبر 2011 - 20:30

سعودی سیاستدان نے سعودی عرب کے تیس لاکھ سے زائد باشندوں کی عراق جلاوطنی پر مبنی مسجد النبی (ص) کے خطیب جمعہ کے عجیب اور انتہاپسندانہ موقف کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق احمد محمد آل ربح نے العالم کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا:  شیخ علی الحذیفی نے مشرقی علاقوں کے تیس لاکھ سے زائد عوام کی جلاوطنی کا مطالبہ کیا ہے اور آل سعود سرکار کا یہ اشتعال انگیز موقف ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب پر حکمران نظریہ انتہاپسندانہ اور فرقہ وارانہ ور اسلامی مذاہب کے پیرکاروں کے خلاف اس حکومت کے امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔آل ربح نے کہا: الحذیفی کے خطبے کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس نے کسی خاص مذہب کی پیروی کی بنا پر مشرقی علاقوں کے نسلی تصفیئہ (Ethnic Cleansing) اور انہیں ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس نے یہ سب آل سعود کی حکومت کی ہدایت پر کیا ہے۔ کیونکہ الحذیفی آل سعود حکومت کا باضابطہ ملازم اور سرکاری منصب کا حامل ہے اور اس کی ہر بات آل سعود کی بات سمجھی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود حکومت مذہب اور مذہبی امتیاز کی پالیسی سعودی معاشرے کو خوفزدہ کرنے اور شیعہ اقلیت کو مرعوب کرنے کے لئے بروئے کار لا رہی ہے جبکہ کے تبدیلیوں اور اصلاحات کے سلسلے میں جزیرة العرب کے شیعہ اور سنی عوام کے جائز مطالبات ہیں لیکن حکومت فرقہ واریت کو ہوا دے کر عوام کو حقوق دینے سے جان بچانے اور عوامی مطالبات کو نظرانداز کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جزیرہ نمائے عرب میں مذہبی امتیازاتآل ربح نے کہا: الشرقیہ کے علاقے کے عوام کے خلاف امتیازی رویئے ناقابل انکار ہیں؛ انہیں فوجی اور سول اداروں میں کام کرنے اور بھرتی ہونے کے حوالے سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے، الشرقیہ کے عوام گذشتہ ایک صدی سے اپنے حقوق کے حصول اور اپنی حالت کی بہتری کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور آج جبکہ علاقے کے عرب ممالک میں تحریکیں شروع ہوچکی ہیں چنانچہ اس علاقے کے عوام کو بھی اپنے مطالبات آگے بڑھانے کے لئے مناسب اور تاریخی موقع مل گیا ہے۔ انھوں نے کہا: اصلاحات اور تبدیلیوں کے سلسلے میں اہل تشیع کے مطالبات کو سیکورٹی کے اقدامات کے ذریعے دبانے کا عمل کسی نتیجے پر ںہیں پہنچے گا کیونکہ جزیرہ نمائے عرب کے عوام ہر قیمت پر اس قسم کی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں اور اپنے مطالبات جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔انھوں نے کہا: آل سعود کا حکمران خاندان کسی صورت میں بھی ان تبدیلیوں کا روادار نہیں ہے اور وہ ملک میں آئینی بادشاہت قائم نہيں کرنا چاہتا اور اس خاندان کی کوشش ہے کہ نمائشی اصلاحات نافذ کرکے عوام کو خاموش کرادے۔ چنانچہ ملک کے باشندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے جائز اور قانونی مطالبات کے لئے حکومت پر اپنا دباؤ مسلسل بڑھا دیں۔سعودی عرب دنیاکے دولتمند ممالک میں سے ہے لیکن اس کے عوام بے گھر ہیںسعودی عرب کے اس سیاستدان نے کہا: ہمارا ملک دنیا کے دولتمند ترین ممالک میں سے ہے لیکن اس ملک میں سیاسی مسائل کی صورت حال یہ ہے کہ 80 فیصد عوام کے پاس ذاتی مکان نہیں ہے اور کم آبادی والے اس ملک کے 30 لاکھ عوام بے روزگار ہیں۔ انھوں نے کہا اس طرح کی مشکلات کو سیکورٹی فورسز اور طاقت اور جبر کے بے تحاشا استعمال سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لئے سول سوسائٹی کے اداروں کا قیام ضروری ہے تا کہ وہ شہریوں کے حوالے سے اپنے فرائض پر عمل کریں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کا موجودہ بحران صرف اسی صورت میں قابل حل ہے۔ انھوں نے کہا: خودکش دہشت گرد اور جنونی قاتلوں کا سرچشمہ حکمران سعودی خاندان ہے لیکن یہ خاندان جائز مطالبات کرنے کے لئے پر امن احتجاج کرنے والے عوام کے ساتھ وہی سلوک کررہا ہے جو خودکش دہشت گردوں اور خونخوار قاتلوں کے خلاف روا رکھا جانا چاہئے۔انھوں نے کہا: آل سعود کی وزارت خارجہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ الشرقیہ کے علاقے میں عوام نے آتشین بوتلوں سے سیکورٹی فورسز پر حملے کئے ہیں لیکن آل سعود کا یہ دعوی ثابت نہیں ہوسکا ہے اور کسی بھی غیر جانبدار ادارے نے اس سلسلے میں تحقیق نہیں کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110