2 جولائی 2011 - 19:30

اس بحرینی سیاستدان نے جمعیةالوفاق کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے خلیفیوں کی طرف سے مذاکرات کے لئے پیداکردہ فضا کی اشارہ کیا کہ یہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہونگے اور مذاکرات کے شرکاء کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان عبدالالہ الماحوذی نے خلیفی حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات میں جمعیةالوفاق کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لئے جوفضا قائم کی گئی ہے اور جو تمہیدات رکھی گئی ہیں اور مذاکرات کے لئے جس ایجنڈے کا تعین ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہونگے اور مذاکرات کے شرکاء کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ انھوں نے خلیفی حکمرانوں کی متضاد پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خلیفی بادشاہ کی طرف سے مذاکرات کے دعوؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ خاندان نے جب سے اس ملک میں اقتدار سنبھالا ہے جھوٹ اور تضاد گوئی کی پالیسی پر گامزن رہا ہے، اور یوں کہ اپنے طویل دور اقتدار نے اس حکومت نے ہمیشہ اصلاحات اور عوامی مسائل حل کرنے کے نعرے لگائے اور دوسری طرف سے جبر و تشدد اور عوام کو کچلنے کی پالیسی پر گامزن رہی اور عوام کا قتل عام اس کے دائمی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: خلیفی بادشاہ نے یکم جوں کو ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان کیا لیکن اسی عرصے میں بھی عوام کے خلاف تشدد آمیز اقدامات جاری رہے ہیں، لوگوں کو قتل کیا گیا ہے، ٹارچر جاری رہا ہے اور بحرینی عوام بدستور خلیفی اذیتکدوں میں اسیر ہیں اور متعدد افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کی معاشی صورت حال کی بہتری کے لئے معاشی اصلاحات کا سیاسی اصلاحات کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ بحرینی عوام نے 14 فروری کو انقلاب کا آغاز روٹی کے لئے نہیں کیا تھا چنانچہ عوام معاشی اصلاحات پر خاموش نہیں ہونگے۔انھوں نے کہا: عوام کا بنیادی مسئلہ عزت و کرامت کی زندگی ہے اور عوام کی عزت و کرامت خلیفی حکومت نے چھین لی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110