20 جون 2011 - 19:30

کرم ایجنسی پاراچنار میں اغوا کئے گئے 33 شیعہ افراد میں سے 22 افراد طالبان دہشت گردوں کے چنگل سے رہا ہو گئے ہیں۔

ابنا: تین ماہ قبل ٹل پاراچنار روڈ سے دوران سفر طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے بائیس شیعہ افراد رہائی پانے کے بعد اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے، یاد رہے کہ 25  مارچ کو دہشت گردوں نے ٹل پاراچنار روڈ پرایک قافلے پر حملہ کیا تھا اور اس دوران دو فلائینگ کوچز کو اغوا کر لیا تھا جن میں مجموعی طور پر 43 مسافر سوار تھے، بعد ازاں دہشت گردوں نے آٹھ مسافروں کی مسخ شدہ لاشیں سیکورٹی فورسز کے حوالے کردیں جبکہ باقی افراد لاپتہ رہے۔دوسری جانب سے حکومت اور قبائلی جرگہ کے اکابرین بار بار یقین دہانیاں کراتے رہے کہ مغویان کو جلد از جلد رہا کرا لیا جائے گا لیکن کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے کے سبب یوتھ آف پاراچنار نے ٹل پاراچنار روڈ کھلوانے، دہشت گردوں کے زیر قبضہ اس نام نہاد قومی شاہراہ پر سفر کو محفوظ بنانے اور مغویان کی بازیابی کے لیے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، احتجاج کے دوران روزانہ کی بنیاد پر نیشنل پریس کلب تا پارلیمنٹ ہاؤس احتجاجی ریلیوں،  کفن پوش جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا، ان احتجاجی مظاہروں میں پاراچنار، پشاور اور دیگر علاقوں کے طلبہ کے علاوہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے عہدیداروں و کارکنو ں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مقامی شخصیات نے یوتھ آف پاراچنار کا بھر پور ساتھ دیا۔احتجاجی مظاہروں کے دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کی سفارش کی تھی، احتجاجی مظاہروں کے 63 ویں روز طالبان دہشت گردوں نے بائیس شیعہ مغویان کو رہا کر دیا۔

بشکریہ از شیعت نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

- پاراچنار: دہشت گردوں کی قید سے رہا ہونے والے 22 شیعہ مغویان کا گروپ فوٹو

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت