اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تبصرے میں کیا گیا کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فتوی صادر فرما کر پیغمبر خدا (ص) کی زوجہ عائشہ بنت ابی بکر کی توہین سمیت تمامی سنی علائم کی توہین کو حرام قرار دیا۔یاد رہے کہ عالم اسلام میں اس فتوی کا زبردست خیر مقدم ہورہا ہے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک استفتاء کے جواب میں فرمایا ہے کہ "اہل سنت برادران کی علامتوں اور مقدسات منجملہ پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ [عائشہ بنت ابی بکر] پر تہمت باندھنا حرام ہے اور یہ حکم تمام انبیاء علیہم السلام بالخصوص انبیاء کے سید و سردار حضرت رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجات پر بھی لاگو ہوتا ہے [اور ان پر بھی کسی قسم کی تہمت لگانا حرام ہے]۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یہ فتوی سعودی عرب کے شہر الاحساء کے علماء اور دانشوروں کے استفتاء کے جواب میں صادر فرمایا ہے۔ یہ استفتاء ایک مولوی نما شخص کی جانب سے عائشہ کی توہین کے بعد عمل میں آیا۔ اس شخص کے توہین آمیز اقدامات کے نتیجے میں سعودی عرب کے مفتی اعظم "آل الشیخ"نے اس شخص کے بیانات پر خوشی اور سرور کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس مولوی کے بیانات کی وجہ سے عرب نوجوانوں کا تشیع کی طرف رجحان ماند پڑ جائے گا"۔اس سے قبل ایران اور دوسرے ممالک کے شیعہ علماء نے سابق کویتی فوجی افسر اور موجودہ شیخ یاسر الحبیب نامی مولوی نما شخص کی جانب سے عائشہ پر بہتان تراشی کی مذمت کی تھی اور سعودی عرب، کویت اور ایران کے شیعہ علماء نے کہا تھا کہ رسول اللہ (ص) کی زوجات کی توہین حرام ہے۔ تہران میں الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے محمد البحرانی نے بھی اسی حوالے سے رپورٹ دیتے ہوئے کئی بار آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی کتاب "اجوبۃالاستفتائات" دکھا کر اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد و یکجہتی پر آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی تأکید کا حوالہ دیا۔ محمد البحرانی نے اس رپورٹ میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے تازہ ترین فتوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے رسول خدا (ص) کی زوجات اور اہل سنت برادران کے نزدیک محترم شخصیات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ کویت کے روزنامے "الانباء"، "معروف ویب سائٹ "المحیط"، لبنانی روزناموں "السفیر" اور "الحیات اور مصری ریڈیو و ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ نے اسسمیت اکثر عرب ذرائع ابلاغ نے اس فتوی کو وسیع پیمانے پر کوریج دی ہے۔ دریں اثناء وہابیت کے ٹیلی ویژن چینل "العربیہ" نے ـ جو ایران میں کسی شخص کے کھانسنے کی آواز سن کر اس ملک میں زلزلہ واقع ہونے کی رپورٹ نشر کرتا ہے ـ اس حوالے سے خاموشی اختیار کررکھی ہے کیونکہ یہ فتوی اسلامی وحدت اور صہیونی سازش کی ناکامی کی بنیاد ہے جبکہ العربیہ اور اس جیسے دیگر ذرائع کا مطمع نظر صہیونیت کے ساتھ ہمصدا ہوکر عالمی صہیونیت کے اہداف کے حصول کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ امام خمینی رحمةاللہ و برکاتہ اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی وحدت پر زور دیتے آئے ہیں کیونکہ ان کی رائے کے مطابق مسلمانوں کی وحدت انہیں اس مقام پر پہنچا سکتی ہے کہ دشمن کو لڑے بھڑے بغیر شکست دے سکیں اور ان کے ہاتھ مسلمانوں کے مقدرات اور ان کے وسائل سے کوتاہ کرسکتے ہیں۔
..........
/110