17 اگست 2010 - 19:30

شیخ الازہر نے وہابی مفتی کی طرف سے شیعہ مذہب کو تسلیم نہ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا: پوری تاریخ میں الازہر کا دائمی اور اصولی موقف مسلمانان عالم کی وحدت و یکجہتی پر مبنی رہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی جامعۃالازہر کے سربراہ "ڈاکٹر احمد الطيب" نے وہابی مفتی کی درخواست کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 14 صدیوں سے شیعہ اور سنی اسلام کے دو بازو اور دو پَر ہیں اور ان کے درمیان کبھی بھی جنگ نہیں رہی اور موجودہ فسادات اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش میں ہونے والی کاروائیاں فرقہ واریت کے ہتھیار سے مسلمانون کو کمزور کرنے کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ انھون نے کہا: تشیع اور تسنن کے اصول دین ایک ہی ہیں اور مسلمانوں کے درمیان وحدت کا قیام الازہر یونیورسٹی کی بنیادی ترجیح ہے۔ شيخ الأزہر نے الازہر کی طرف سے وحدت مسلمین کے قیام پر مبنی تاریخی رویئے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: الازہر کے سابق مفتی شیخ "محمود شلتوت" اور شیعہ سابق مرجع تقلید "تقی الدين قمی" نے مشترکہ طور پر "دارالتقریب کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قیام کا اہتمام کیا اور الازہر نے بھی یہی رویہ جاری رکھا ہے۔ یادرہے کہ وہابی مفتی اور مکہ مکرمہ کی ام القری یونیورسٹی کے استاد "أحمد بن سعد بن حمدان الحمدان الغامدي" نے الازہر کی جانب سے تشیع کو تسلیم کئے جانے اور دیگر مذاہب کی مانند اس مذہب کی پیروی کو صحیح قرار دیئے جانے پر شدید تنقید کی تھی اور اس ادارے سے مذہب شیعہ کو تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

.......

/110

متعلقہ لنک:

- جامعۃالازہر نے تشیع کو کیوں تسلیم کیا ہے / تحقیقی جائزہ