یوکرین میں چار سال جنگ اور تباہ کاریوں، لاکھوں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے اور ملینز افراد کے بے وطن اور دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہونے کے بعد، اب ولودیمیر زلنسکی کو امریکی صدر کی طرف سے 28 نکاتی امن منصوبے کے نام سے ایک "حکم نامہ" ملا ہے جس کے اہم نکات یہ ہیں کہ وہ اپنے کم از کم 20فیصد رقبے سے دستبردار ہوجائیں، نیٹو میں شمولیت کے بارے میں سوچنا ہمیشہ کے لئے ترک کردیں، اپنی فوج کی تعداد کو نصف تک کم کر دیں اور انتخابات منعقد کرکے اقتدار سے بھی دستبردار ہوجائیں!۔۔۔ چنانچہ ان کی زبان حال یہی ہو سکتی ہے کہ "مجھے روس سے کیا لینا دینا تھا، تم نے مجھے دھکیل دیا اس جنگ میں اس لئے کہ روس کو مزید طاقتور ہونے سے روک دو، میں نے اپنے ملک کا جاہ و حشم تمہاری خاطر لٹا دیا، کیا میری پاداش یہی تھی؟ اور یہ کہ اے دنیا کے چاپلوسو! امریکہ ناقابل اعتماد ہے۔"
رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے کل [جمعرات 27 نومبر 2025ع کی] شام قومی ٹیلی وژن سے اپنی نشری تقریر میں ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے، بسیج کو "یک عظیم سرمائے، عمومی-عوامی تحریک اور قومی طاقت میں اضافے کے ذریعے" کی حیثیت سے، مضبوط بنانے اور پورک طاقت سے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ایران پر حملے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی ـ کسی بھی مقصد کے حصول میں ـ ناکامی کو ان کی یقینی شکست قرار دیا اور عوام سے کچھ سفارشات کرتے ہوئے، آپ نے تمام لوگوں اور سیاسی دھڑوں سے قومی اتحاد برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی اپیل کی / امریکی اپنے دوستوں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں، یعنی جو ان کے دوست ہیں انہیں بھی فریب دیتے ہیں۔ وہ فلسطین پر حکومت کرنے والے مجرم صہیونی گینگ کی حمایت کرتے ہیں۔ تیل اور زیر زمین قدرتی وسائل کے لئے وہ دنیا میں کہیں بھی جنگ کی آگ بھڑکا سکتے ہیں، آج ان کی یکہ جنگ پسندی جنگ لاطینی امریکہ تک پہنچ چکی ہے۔ ایسی حکومت اس قابل نہیں کہ اسلامی جمہوریہ جیسی حکومت اس سے تعلق یا تعاون کی خواہشمند ہو۔