اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی سیاستدان نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی مداخلت کا آغاز عراق پر واشنگٹن کے حملے سے ہوا جس کا مقصد پورے علاقے میں انارکی اور افراتفری کی کیفیت پیدا کرنا تھا۔
الزاملی نے کہا: موصولہ اطلاعات کے مطابق، دہشت گردوں کا سرغنہ ابوبکر البغدادی اور صہیونی ـ تکفیری ٹولے داعش کے دیگر کمانڈر شام کے شہر الباغوز میں موجود ہیں۔
انھوں نے لبنان کے المیادین چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن دہشت گردوں کو عراق نے اپنی تحویل میں لیا ہے، وہ الباغوز میں ہی تھے اور سب داعش سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان میں داعش کے سرغنے اور کمانڈر شامل نہیں تھے حالانکہ وہ بھی الباغوز میں ہی ہیں۔
الزاملی نے کہا کہ عراق منتقل ہونے والے داعشی دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ داعش کے سرغنے امریکیوں کے پاس محفوظ ہیں۔
ادھر سلامتی امور کے تجزیہ نگار حازم الباوی نے کہا کہ امریکہ داعشی دہشت گردوں اور ان کے اہل خانہ کو مغربی عراق میں بسانے اور داعش کی تشکیل نو کی کوششوں میں مصروف ہے۔
عراقی رضاکار افواج "الحشد الشعبی" کے سربراہ فالح الفیاض نے بھی کہا ہے کہ وہ عراقی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایک عظیم اور اہم منصوبہ بنا رہے ہیں اور عراقی فوجی یونٹیں الباغوز میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہیں اور جہاں بھی ضرورت پڑے، ہنگامی کاروائیوں کے لئے تیار ہیں۔
دریں اثناء عراقی ذرائع نے کہا ہے کہ الحشد الشعبی نے صوبہ نینوا کے ایک علاقے پر داعشیوں کے حملے کو ناکام بنایا ہے اور بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
https://tn.ai/1965394
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰