اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے سات مہینوں کے دوران وائٹ ہاؤس اعلی تزویرکار (Chief Strategist) اسٹیو بینن (Steve Bannon [Stephen Kevin Bannon]) نے "چین کے خطرے پر ارتکاز" کو شام سے انخلاء اور افغانستان میں امریکی فوجوں کی تخفیف کے سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کا سبب گردانا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بینن کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی سیاسی مشینری نے اس قدر ٹرمپ کا راستہ روک لیا کہ آخرکار انھوں نے کہا کہ "بس اتنا کافی ہے" اور خود ہی سرگرم عمل ہوگئے۔
بینن سنہ 2017ع میں بھی وائٹ ہاؤس کی ملازمت کے دوران افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے سلسلے میں امریکی جرنیلوں سے جھگڑے چکے تھے۔
بینن نے کہا: یہ سب اچھا نہیں ہے لیکن اب یہ انجام پا چکا ہے۔
بینن کے مطابق، ٹرمپ ان فوجی مہمات کو ختم کرکے اپنی قوت اور توجہ چین کے ساتھ معاشی اور جُغ سیاسی (Geopolitical) مسابقت پر مرکوز کرنا چاہتے تھے؛ کیونکہ ٹرمپ چین کو امریکہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
بینن کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی اس پالیسی کا مقصد تنہائی پسندی (Isolationism) کی طرف پلٹنا نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسٹر ٹرمپ بین الاقوامیت پسندوں کی انسان دوستانہ لشکرکشی والی ذہنیت سے دوری اختیار کررہے ہیں۔
بعض امریکی نظریہ پردازوں کا خیال ہے کہ چین کے بین الاقوامی تعلقات امریکہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ امریکہ کے مشہور ماہر سیاسیات پروفیسر جان میئر شیمر (John Mearsheimer) بھی ان ہی نظرپردازوں میں شامل ہیں۔ لگتا ہے کہ امریکی صدر کم از کم بعض پہلؤوں میں اس قسم کے نظریہ پردازوں کے نظریات سے متفق ہیں۔
اسٹیو بینن کو سنہ 2017ع میں وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف جان ایف کیلی (John F. Kelly) نے برخاست کیا تھا۔ جبکہ انھوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔
http://fna.ir/bqr9jv
............
110