7 دسمبر 2018 - 10:23
بے لگام سعودی شہزادے کا زوال، الٹی گنتی شروع / ایم بی ایس کا انجام کیا ہوگا؟

سعودی عرب اور ولیعہد محمد بن سلمان کو پیچیدہ بحران کا سامنا ہے؛ اس بحران سے نجات کیونکر ممکن ہے؟ اگر ولیعہد کو نجات دلانے میں بنی سعود کو کامیابی حاصل بھی ہوجائے تو اس کے قلیل المدتی اور طویل المدتی اثرات کیا ہونگے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بنی سعود کے مغربی شرکاء کو عرصے سے توقع ہے کہ سعودی بادشاہت تجدد (1) کا خیر مقدم کرے، اسی بنا پر انھوں نے ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کے لئے سرخ قالین بچھایا۔ لیکن خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد، سعودی حکمرانوں کی حقیقت کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں رہا۔
واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل نے ـ 11 ستمبر 2001ع‍ کے بعد ایک بار پھر ـ بنی سعود کی بادشاہی کو کمزور ترین اور  خستہ ترین سفارتی صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔ خاشقجی کا قتل سعودیوں کے کئی غلط اقدام کے تسلسل میں انجام پایا جیسے: لبنانی وزير اعظم سعد الحریری کی گرفتاری، انسانی حقوق کی سرگرم خاتون کارکنوں کی گرفتاری، جرمنی اور کینیڈا کے ساتھ شدید سفارتی بحران وغیرہ۔ ان واقعات نے سعودی پالیسیوں اور اس کے مستقبل کو شدت سے متاثر کیا۔
خاشقجی کے وحشیانہ قتل نے مغرب کو جھٹکا دیا اور ان کی آنکھوں کو ان حقائق کی طرف کھول دیا جنہ سے متعلق خبروں اور رپورٹوں کو وہ اس سے پہلے نظرانداز کرتے رہے تھے۔ اور یہ واقعہ مغربی ـ بالخصوص امریکی ـ تھنک ٹینکس اور متعلقہ اداروں کے شدید غم و غصے اور رد عمل کا سبب بنا۔ اور جو لوگ اس سے پہلے شہزادہ محمد بن سلمان کو مشرق وسطی کا سورما سمجھ رہے تھے، اچانک اس کے بارے میں اپنی رائے بدل دی اور اس کا مشرق وسطی کا سرکش اور مطلق العنان آمر قرار دینے لگے۔ سعودی فکری مراکز ـ جو سعودی شہزادے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی غلط پالیسیوں سے تھک چکے تھے ـ موقع سے فائدہ اٹھا کر سعودی شہزادے کو سزا دینے اور سعودی حکومت کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں میں  بنیادی تبدیلیاں لانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ انھوں نے سعودی بادشاہی کی استبدادی پالیسیوں کے نتیجے میں علاقے کو مزید نقصان پہنچنے اور امریکی مفادات کے خطرے سے دوچار ہونے کے سلسلے میں خبردار کیا اور مختلف قسم کے متبادل متعارف کرائے۔ لیکن ان سب کا ایک نقطے پر اتفاق تھا؛ وہ یہ کہ "دیر ہونے سے پہلے کی سعودی ولیعہد کے لگام دی جائے"۔
اس رپورٹ میں خاشقجی کے قتل کے نتائج اور بنی سعودی خاندان کی حکمرانی کے مستقبل کے بارے میں امریکی ماہرین و مبصرین اور فکری مراکز کے رد عمل اور آراء و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے:
امریکہ محمد بن سلمان کو لگام دینے سے عاجز
لندن اسکول آف اکنامکس
امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تھنک ٹینک سے وابستہ جریدے فارن افیئرز (2) نے لندن اسکول آف اکنامکس (3) کی سعودی نژاد ماہرہ اور مشرق وسطی مرکز میں "معاشرتی انسانیات" (4) پروفیسر مضاوي الرشيد (5) کی یادداشت بعنوان "امریکہ ایم بی ایس پر کیوں قابو نہیں پا سکتا" (6) کے ضمن میں لکھا ہے: "سرکش شہزادے کو لگام دینے کی ضرورت"۔ (7) (8)
الرشید نے اس یادداشت میں لکھا ہے کہ: سعودی عرب کا چہرہ اور اس کی ساکھ پوری دنیا میں مجروح ہوچکی ہے۔ حتی کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک بھی ـ جو سعودیوں کے شراکت دار ہیں اور اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات میں منسلک ہیں اور سعودیوں کے ساتھ تعلقات کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے، اور کبھی بھی اس ملک کے اندر عشروں سے جاری جبر و استبداد اور عوام کی سرکوبی جیسے اعمال پر اعلانیہ تنقید نہیں کرتے تھے، وہ بھی خاشقجی کے قتل کے بعد بولنے لگے ہیں اور شفاف اور حقیقی تحقیقات کے خواہاں ہیں۔
مضاوی لکھتی ہے: مخالفین اور ناقدین کو حراست میں لینے اور قتل کرنے جیسے اقدامات سعودی عرب میں نئے نہیں ہیں لیکن خاشقجی کے قتل نے ایک شدید استبدادی آمر ریاست کا چہرہ بے نقاب کیا۔ ماضی میں خاندان کی مختلف شاخوں کے شہزادے حکومت کے معاملات میں شریک ہوتے تھے اور سب مل کر حکومت کے مختلف شعبوں کی باگ ڈور چلاتے تھے؛ لیکن 2015ع‍ سلمان بن عبدالعزیز کے برسر اقتدار آنے کے بعد، اس نے اپنے بیٹے ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کو ولیعہد بنایا اور یوں عبدالعزیز سے ملی ہوئی رسم حکمرانی کا خاتمہ کرکے ایک ہی خاندان اور ایک ہی شاخ کو تمام معاملات پر مسلط کیا گیا اور اس وقت سعودی حکومت کی پوری طاقت سلمان اور اس کے بیٹے کے ہاتھ میں ہے۔
لندن اسکول آف اکنامکس کی پروفیسر کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے بڑی اور حیاتی غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے، سعودی حکمران قطر کے محاصرے میں ناکام ہوچکے ہیں اور یمنی عوام پر ظالمانہ جنگ مسلط کرچکے ہیں، جو حال حاضر میں انسانی المیئے میں بدل چکی ہے اور خاشقجی کے قتل نے ان کی تمام تر غلطیوں کو نمایاں کرکے دنیا کی رائے عامہ اور عالمی برادری کی نظروں کے سامنے رکھا ہے اور چونکہ سعودی خاندان کو عالمی رائے عامہ میں ایک طرف رکھا گیا ہے اور کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہے، یہ اس کا حامی امریکہ ہے جس کو آگے بڑھ کر اس بحران کا انتظام سنبھالنا پڑ رہا ہے تا کہ اس دھارے کا رخ موڑ دے۔
ٹرمپ کو سعودی ولیعہد کے سلسلے میں اپنے توہمات ترک کرنا پڑیں گے
کونسل آن فارن ریلیشن
امریکی تھنک ٹینک "کونسل آن فارن ریلیشن" (9) کا سربراہ رچرڈ ہاس (10) ان مشہور امریکی تجزیہ نگاروں اور ماہرین میں سے ہے جنہوں نے ـ ریپلیکن جماعت کا رکن ہوتے ہوئے بھی ـ بن سلمان کے سلسلے میں امریکی رویے اور نقطۂ نظر پر تنقید کی ہے۔ (11) ہاس اپنے مضمون " امریکہ کو سعودی ولیعہد کے سلسلے میں اپنے اوہام سے چھٹکارا پانا چاہئے" (12) لکھتا ہے: "غیرجانبدار مبصرین کی اکثریت یقینا اس نتیجے پر ہہنچی ہے کہ سعودی حکومت نے ہی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں قتل کردیا ہے۔ لیکن شاید ہمیں کبھی بھی ایسا ناقابل انکار ثبوت نہ مل سکے جو ثابت کرے کہ ولیعہد محمد بن سلمان اس اقدام میں شریک تھا۔ اس بات کا سبب یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل اس وقت انجام نہیں پا رہا ہے جو غیرجانبدارانہ تحقیقات سے مشابہت رکھتا ہو۔ اور اگر ہم سعودی حکومت پر ایسی تحقیقات کے سلسلے میں اعتماد کریں تو یہ بہت مضحکہ خیز ہوگا"۔
انھوں نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ "واضح نہیں ہے کہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم کیوں دیا ہوگا؟ حتی اگر وہ ہمارے خیال میں اس جرم سے جان بچانے میں کامیاب بھی ہوجائے۔ شاید خاشقجی کے قتل کا حکم دینے کا سبب یہ ہو کہ وہ اس صحافی سے ناراض تھا جو کافی شافی اصلاحات میں سعودی حکومت کی ناکامی کو بنیاد بنا کر بن سلمان پر مسلسل تنقید کیا کرتا تھا۔ شاید وہ چاہتا تھا کہ خاشقجی دوسروں کے لئے نشان عبرت بنے اور یوں وہ اپنے ناقدین اور مخالفین کو بھی اپنا پیغام پہنچانا چاہتا تھا۔ ِنیز یہ تصور بھی موجود ہے کہ خاشقجی کا قتل سیاسی کشمکش کا شاخسانہ ہو، کیونکہ تصور کیا جاتا تھا کہ خاشقجی سعودی خاندان کے بعض اہم افراد کے ساتھ رابطے میں تھا جنہیں محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔
رچرڈ ہاس سعودی عرب کو بری الذمہ قرار دینے کے سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حیلوں بہانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ کو ایم بی ایس کے ساتھ کھڑا رہنا چاہئے، کیونکہ سعودی عرب ایک اہم اور قابل قدر حلیف ہے جو امریکہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ خریدتا ہے، شام کی صورت حال میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے اور "دہشت گردی کے خلاف!؟" جنگ میں امریکہ کی مدد کررہا ہے، نیز ایران کے خلاف امریکہ کا شریک ہے۔ سعودی عرب، دنیا بھر کے تیل کا ایک دہائی حصہ (13) پیدا کررہا ہے۔ سعودیوں نے امریکہ کے کاروباری شعبے اور مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کا اہتمام کیا ہے۔۔۔ یہ سب درست ہے لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ لاپروا سعودی ولیعہد سے ایسے اقدامات سرزد ہورہے ہیں جن سے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے یا پھر ان اقدامات کو ناکام کردیتے ہیں جو امریکہ کے لئے مفید ہیں"۔
یمن سعودیوں کا ویٹ نام
رچرڈ ہاس یمن میں انسانی المیئے اور قطر پر پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: "بنی سعود کی جنگ نے یمن کو سعودی عرب کے لئے نئے ویٹ نام میں تبدیل کردیا ہے، آج یمن کی جنگ نے انسانی اور تزویری المیئے کی صورت اختیار کرلی ہے۔ ایم بی ایس کے اقدامات نے ایک ایسے ملک [قطر] کو کمزور کردیا ہے جہاں علاقے میں امریکہ کا اصلی فوجی اڈا واقع ہوا ہے۔ 2017ع‍ میں لبنانی وزیر اعظم کے اغوا کو بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہئے۔ سعودی یہودی ریاست اور فلسطینیوں کو قریب لانے میں بھی ناکام ہوچکے ہیں"۔
خاشقجی کا قتل ایران پر دباؤ بڑھانے کے لئے بین الاقوامی حمایت کے حصول کو دشوار کرے گا
کونسل آن فارن ریلیشن کا سربراہ لکھتا ہے: "علاوہ ازیں، خاشقجی کا انجام سبب بن رہا ہے کہ ایران پر دباؤ پر بڑھانے کے لئے بین الاقوامی حمایت کا حصول بھی دشوار ہوجائے۔ بہت سے لوگ ریاض کو کم از کم ایران کے برابر مشکل ساز تصور ہوگا۔ شاید ایم بی ایس نے کچھ اصلاحات بھی کی ہیں لیکن وہ اسی اثناء میں ایک مطلق العنان آمر ہے۔ اس کی منظور نظر اصلاحات صرف وہ ہیں جو اس کی اپنی نگرانی میں انجام پائیں۔ بدقسمتی سے ممکن ہے کہ حالیہ واقعات کے نتیجے میں وہ اپنی پسندیدہ اصلاحات بھی انجام کو نہ پہنچا سکے"۔
رچرڈ ہاس وائٹ ہاؤس کو کچھ تجاویز دیتے ہوئے لکھتا ہے: "امریکہ کو بہت مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔ ان تجربات سے کچھ سبق لیا جاسکتا ہے اور ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ "کیا کیا جاسکتا ہے اور کیا کرنا چاہئے"، پہلے مرحلے میں ایم بی ایس  کے کھاتے کو سعودی عرب کے کھاتے سے الگ کرنا پڑے گا، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم ایم بی ایس کو کسی قید و شرط کے بغیر قبول نہیں کریں گے، اس کو وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں نہیں بلانا چاہئے۔ تاجر برادری کو بھی اسے بلانے اور دعوت دینے سے اجتناب کرنا پڑے گا، اور جب تک کہ ایم بی ایس سعودی عرب میں سفید و سیاہ کا مالک رہتا ہے، اعلی انتظامی حکام، حصہ داران (14) اور کارکنوں کو ـ سعودی حکومت کے ساتھ شراکت اور تعاون سے ـ پرہیز کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ یا کانگریس کو چاہئے کہ سعودیوں کو امریکہ کے فراہم کردہ اسلحے اور معلوماتی صلاحیتوں کے استعمال کے سلسلے میں محدود کردے اور اس سلسلے میں بعض ضوابط وضع کرے۔ یمن کی جنگ کے پیش نظر، امریکہ کو بہت پہلے ایسا کرنا چاہئے تھا۔ لیکن تاخیر سے انجام دینا انجام نہ دینے سے بہتر ہے"۔
ایم بی ایس نے اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے
ہاس اپنے مضمون کے آخر میں پیشنگوئی کرتا ہے: "ایم بی ایس نے اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، اور بنی سعود کے دیگر اراکین اس نتیجے پر پہنچ ہی جائیں گے کہ مغرب کی طرف سے اس کی حمایت غیر مشروط نہیں ہوسکتی۔ اس کے جانشین کے تعین کا کام سعودیوں سے تعلق رکھتا ہے تاہم اس ماجرا کا طنزیہ پہلو یہ ہے کہ جو اقدامات [اندرونی اور بیرونی سطح پر] سعودی عرب کے حالات پر ایم بی ایس کے کنٹرول کو تقویت پہنچانے کے لئے انجام پائے ہیں، عین ممکن ہے کہ الٹے اثرات مرتب کریں؛ یہ عین ممکن ہے"۔
کم از کم صورت یہ ہے کہ سعودی معاشی اصلاحات کے سلسلے میں ایم بی ایس کے مستقبل کو شدت سے نقصان پہنچے گا۔ اس نے بہت سوں کو بہت کچھ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے جنہیں وہ کھو جائے گا۔ یہ کا  سبب جمال خاشقجی کا قتل ہے؛ کیونکہ اب یہ امر مسلّم ہے کہ یا تو ایم بی ایس نے خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہے یا پھر اس کے قتل کی سازش سے باخبر تھا۔
سلمان اور محمد بن سلمان کے لئے خاشقجی کے قتل کے نتائج
بیلفر مرکز برائے سائنس و بین الاقوامی امور
بیلفر مرکز برائے سائنس و بین الاقوامی امور (15) کا اردنی نژاد سینئر رکن "رامی الخوری" نے اپنے مضمون "خاشقجی کے قتل کے ممکنہ عظیم عواقب" (16) میں لکھتا ہے: "استنبول میں خاشقجی کے قتل کیس پر ہمارا ارتکاز چار دلیلوں کی بنا پر اہم ہے: یہ چار دلیلیں مشرق وسطی کے انجام، اور اگلے برسوں میں، علاقے کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونگی۔ بہت جلد واضح ہوجائے گا کہ قاتلین جواب دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں یا یہ کہ اس مسئلے پر مرکوز بین الاقوامی توجہ پھیکی پڑ جاتی ہے، اور یہ عالمی توجہ تیل اور گیس کے سائے میں محو ہوجاتی ہے، اور علاقے سیاست کا ڈھانچہ اپنی موجودہ شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ (17)
ایک ایک موضوع وہ چھوٹا سا دریچہ ہے جو سعودی عرب اور علاقے کے دوسرے ممالک کے اندرونی فیصلہ سازیوں کی طرف کھل گیا ہے۔ معاصر دور کے دور میں پہلی بار، دنیا کے دارالحکومتوں میں یہ بحث سنجیدگی سے چھڑ گئی ہے تا کہ معلوم ہوجائے کہ سعودی انتظامیہ کے اندر کس شخص نے یہ کام سرانجام دیا ہے اور اس کی سزا کو کس طرح ہونا چاہئے؟ بالخصوص اگر اس واقعے کا ولیعہد کی ذات یا اس کے دفتر سے کوئی تعلق ثابت ہوجائے تو اسے معاف نہ کیا جائے اور یہ کہ ولیعہد کو کس طرح برخاست کیا جائے؟ یہ مسئلہ کئی شعبوں میں اہم نتائج پر منتج ہوگا۔ ان نتائج میں سے ایک بیرونی احتساب اور جوابدہی کے نئے اور بےمثل اوزار کا معرض وجود میں آنا ہے؛ اور یہ اوزار سعودی عرب کے اندر حکومت کا ڈھانچہ تشکیل دینے میں کردار ادا کرے گا۔ دوسرا نتیجہ ـ ولیعہد کی تنزلی یا برطرفی کی صورت میں ـ علاقے میں سیاسی رقابتوں کے آغاز کی صورت میں برآمد ہوگا اور سعودی عرب کی اندرونی اور علاقائی سطح پر موجودہ پالیسیاں یکایک زوال پذیر ہوجائیں گی یا رک جائیں گی"۔
الخوری مزید لکھتا ہے: "امریکی - سعودی تعلقات کا دوسرا اور زیادہ اہم حصہ، مشرق وسطی کے لئے ٹرمپ کی توہماتی "عظیم تزویری حکمت عملی" اور کئی محاذوں میں دباؤ بڑھانے کے تصور ولیعہد کی برخاستگی یا پھر تنزلی، کا تعلق ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ مشرق وسطی کی امریکی پالیسی کے سلسلے میں کوشنر ـ ٹرمپ کی خیالی دنیا میں سعودی عرب (بمعۂ اسرائیل) بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور امریکہ کی تمام بڑی اور اہم سیاسی پالسیاں اسی کے گرد گھومتی ہیں؛ اور جن میں چار چیزیں بہت بنیادی ہیں:
الف: خوابوں کی سرزمین، اسرائیل اور فلسطینیوں کے امن کے لئے "صدی کی ڈیل"؛
ب: علاقے میں ایران کی طاقت خاتمہ کرنے کے لئے ہمآہنگ عرب ـ اسرائیلی محاذ کا قیام؛
ج: بنی سعود کی قیادت اور امریکی اور دوسرے ممالک کی حمایت میں قائم عرب ـ اسلامی اتحاد (جس کو متوہمانہ اور اخطباطی طور پر "عرب نیٹو کہا جاتا ہے)؛ اور
د: سنہ 2012ع‍ سے ـ عرب تحریکوں کی روشنی میں ـ پالیسی یہ تھی کہ مطلق العنان عرب حکومتوں اور حکمران اشرافیہ کی حمایت پر استوار ہوئی، جو اظہار کی آزادی، شراکت داری اور کثیرتیت پسند سیاست، آزاد انتخابات، احتساب کی طاقت، شہری حقوق اور ایک خودمختار شہری معاشرے (18) پر منتج ہونے والی کسی بھی تحریک کو مار دیتے ہیں۔
یہ چاروں امریکی پالیسیاں سعودی ولیعہد کی سرنگونی کی صورت میں سرنگون ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں بعض سعودی مجرموں کے طور پر بدنام اور رسوا ہوجائیں گے، ثابت ہوجائے گا کہ ٹرمپ ـ کوشنر کی ٹیم، ایک خام خیال، نابالغ، احمق اور لالچی ٹیم ہے"۔
یہ امریکی ـ اردنی مبصر کہتا ہے: "خاشقجی کے قتل کے بعد کے دور کا ایک اہم پہلو ترکی اور سعودی عرب کا آمنا سامنا ہے جو علاقے ہر اعتقادی، ثقافتی اور جغرافیائی ـ سیاسی غلبہ پانے کے لئے لڑی جانے والی لڑائی ہوگی نیز پرانے بازار کے عیار سوداگروں کے درمیان پرانے طرز کے مذاکرات کا آغاز ہوگا، جن میں فریقین ایک دوسرے کو بازار سے نکال باہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاشقجی کے قتل کے بعد کے مہینے کے بعد سے، ترکوں نے نہایت شدت سے سعودیوں کو زیر کردیا ہے اور وہ اس راہ میں اپنے باریک بینیوں، حکمت عملیوں، سودے بازیوں اور حکومت داری کے چار ہزار سالہ ذخیرے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ سعودی ایک نابلد اور غیر پیشہ ور شخص کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جھوٹ کے بعد دوسرا جھوٹ پیش کررہے ہیں اور اپنا قصہ مسلسل بدل رہے ہیں اور یوں اپنی ساکھ مکمل طور پر تباہ کررہے ہیں اور اپنے اندرونی حکومتی ڈھانچے کو دباؤ کی مختلف قسموں کا نشانہ بننے کے لئے پیش کررہے ہیں۔ ایک ایسا حکومتی نظام جس کو اب امریکی کانگریس سمیت کئی بیرونی ممالک جانچ رہے ہیں۔
خاشقجی قتل کیس کے عواقب شاید برسوں تک ہمارا دامن نہ چھوڑیں، لیکن ان عواقب و نتائج کی وسعت اور حدود کا اندازہ لگانا اس وقت ممکن ہوگا جب اس واقعے کی حقیقت ـ کسی بھی شک و تذبذب کے بغیر ـ واضح ہوجائے۔ یہ وہی مقصد ہے جس تک پہنچنے کے لئے پوری دنیا کو کوشاں ہونا چاہئے۔ کیونکہ ایک بےگناہ انسان کا قتل ناقابل قبول ہے، بالکل اسی طرح، جس طرح کہ 40 کروڑ عرب باشندوں کی عملی قید [اور حبس بےجا] بھی ناقابل قبول ہے؛ جو ابھی تک اپنے بنی نوع انسان اور اپنے ملکوں کے باشندوں کے طور پر اپنے حقوق کی تلاش میں ہیں۔
کیٹو انسٹیٹیوٹ
ادھر تھنک ٹینک کیٹو انسٹیٹیوٹ (19) نے ایم بی ایس کی غلط اور جابرانہ پالیسیوں پر شدید رد عمل دکھایا۔ اس امریکی تھنک ٹینک نے اپنے ایک سینئر رکن ڈوگ بانڈو (20) کا مضمون "ولیعہد، پورا فراڈ" (21) شائع کیا ہے۔ جس میں بانڈو نے لکھا ہے: "خاشقجی جلاوطن ہوا، اس لئے کہ بظاہر اصلاح پسند ولیعہد اپنے معتدل مخالفین کو بھی کچل رہا تھا۔ خاشقجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اس لئے کہ اس نے کہ ایسی حکومت پر تنقید کرنے کی جرأت کی تھی، جو بدستور اپنے عوام پر ظلم روا رکھتی ہے، کم از کم سیاسی اور مذہبی آزادیوں کو کچل دیتی ہے، مشرق وسطی کو عدم استحکام سے دوچار کرتی ہے، پوری دنیا ـ بشمول امریکہ ـ میں شدت پسند اسلام کا پرچار کرتی ہے۔ اور شام اور دوسرے ممالک میں تشدد پسند جہادیوں کی تائید و حمایت کرتی ہے۔ سعودی عرب خود ان تمام چیزوں کی علامت ہے جن کا الزام وہ ایران پر لگاتا نہیں تھکتا۔ ایم بی ایس کی غلط حکمرانی امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ (22)
خاشقجی کے قتل نے ایم بی ایس کی لاپروائی اور گستاخی کی انتہاؤں کو واضح کردیا۔ صدر ٹرمپ اور سعودی حکومت کے دوسرے شیدائیوں کے سادہ لوحانہ خیالات کے برعکس، کوئی بھی سنجیدہ انسان یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ اغوا اور قتل کے لئے بھجوایا گیا 15 رکنی جتھا ـ بشمول ہڈی کاٹنے والی آری سے لیس پوسٹ مارٹم اسپیشلسٹ اپنے پورے سازوسامان کے ساتھ ـ ایم بی ایس کی اجازت لئے بغیر سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوکر خاشقجی کو قتل کرچکا ہے۔ ایم بی ایس حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اپنے مخالفین کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا"۔
کہا جاتا ہے کہ سلمان بھی ناخلف بیٹے سے ناراض ہے
ڈوگ باندو مزید لکھتا ہے: "سینئر شہزادوں کے درمیان ولیعہد کی تبدیلی کے سلسلے میں بحث و تمحیص کے بارے میں کچھ افواہیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ افواہیں اپنی نوعیت کے لحاظ سے قابل تصدیق نہیں ہیں۔ ایم بی ایس مکمل اختیارات اور پوری طاقت کا مالک ہے، لیکن اس کی یہ طاقت اور اختیارات اس کے باپ کے مرہون منت ہیں۔ یہ شخص سعودی ریاست کے مستقبل کی حکمرانی کے لئے منتخب ہوا ہے لیکن اس کی پالیسیاں بہترین حالت میں متنازعہ ہیں اور بدترین حالت میں المناک اور تباہ کن: ریٹزکارلٹن ہوتل کو کو جیل میں بدلنا، یمن کی جنگ کے ضمن میں اسکولوں کے بچوں کا قتل عام کرنا، جزیرہ نمائے عرب کے عوام کی فکری آزادیوں کی رہی سانسیں چھین لینا، لبنانی وزیر اعظم، سعد الحریری کو اغوا کرنا، شام کی خانہ جنگی میں مداخلت کرنا، قطر کو دشمن قرار دے کر نہایت بدسلوکی کا نشانہ بنانا وغیرہ وغیرہ۔ شاید اس کا باپ سلمان بن عبدالعزیز بھی اس کی کارکردگی اور اس کے خطرناک نتائج سے ناراض ہو۔ اور ممکن ہے کہ شاہ سلمان اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے اپنے کسی دوسرے اور ذمہ داری کا احساس رکھنے والے بیٹے کو ـ اپنا جانشین بنانا چاہئے۔ اس ضعیف بادشاہ [سلمان بن عبدالعزیز] نے ضروری سمجھا ہے کہ موجودہ بحران میں مداخلت کرے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ کچھ زیادہ وسیع تبدیلیاں آرہی ہوں۔
ایم بی ایس نے قیادت کے امتحان میں شرکت کی اور ناکام ہوا۔ وہ شاید خاموشی سے حکومت سے الگ ہونے کے لئے تیار نہ ہو، لیکن اس نے اپنے خاندان کے اندر بھی اپنے لئے بہت زیادہ دشمن تراشے ہیں اور حتی کہ اس کے گنے چنے دوست بھی ملکی انتظام چلانے اور مشکل گھڑیوں میں حالات سنبھالنے اس کی صلاحیت پر اعتماد نہیں رکھتے"۔
ایم بی ایس کی بادشاہت کا خطرہ (23) اس سے کہیں زيادہ بڑا ہے جسے برداشت کیا جاسکے
بانڈو ایم بی ایس کے اقدامات کے انجام کے بارے میں خبردار کرتا ہے اور لکھتا ہے: "عرصہ ہوا کہ سعودی عرب کا مستقبل مبہم اور تاریک ہے۔ یہ ملک مایوسی کے ساتھ، وسیع البنیاد اصلاحات کا محتاج ہے۔ وہی اصلاحات، جن کا ایم بی ایس نے دعوی کیا تھا اور اور ان ہی دعؤوں نے متعینہ ولیعہد کے طور پر ایم بی ایس کے سلسلے میں مغربی ممالک کے توہمات اور بےبنیاد خیالات کو جنم دیا تھا۔
تاہم اس نے ثابت کرکے دکھایا کہ ذاتی طور پر ایک مطلق العنان، بےلگام اور آدم کُش شخص ہے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر، اس نے ثابت کیا کہ وہ ایک احمق، لاپروا اور متکبر شخص ہے۔ اس کے خطرناک اور ضرر رساں اور سوچے سمجھے بغیر کے ناقابل قبول کررتوت، جوا بازیاں اور تخویفی و تہدیدی اقدامات نے سعودی بادشاہت اور امریکہ کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے ہیں۔ ضروری ہے کہ سعودی شاہی خاندان اپنی پوزیشن واضح کرے، اور امریکہ کو بھی چاہئے کہ جزیرہ نمائے عرب کی موجودہ حکومت کے ساتھ ایک مجرم ادارے کے طور پر پیش آئے، کیونکہ یہ حکومت ایک ایسے ہی ادارے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ایم بی ایس کے ہوتے ہوئے، اس قسم کی ریاست کو تسلیم کرنے سے حاصل ہونے والی شرمندگی اور خجلت زدگی اور اس کے دوسرے اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں گے۔
واشنگٹن انسٹٹیوٹ
امریکی تھنک ٹینک "واشنگٹن انسٹٹیوٹ" (24) نے سائمن ہنڈرسن (25) کا مضمون "خاشقجی کا قتل، ہمیں سعودی اقتدار کے ڈھانچے  کے بارے میں ہمیں کیا بتاتی ہے؟" (26) شائع کیا ہے۔ ہنڈرسن سعودی ولیعہد ایم بی ایس کی برطرفی کے بارے میں لکھتا ہے: "خاشقجی کے قتل نے کچھ افواہوں کو جنم دیا ہے، اور وہ کہ شاید شاہی خاندان ایم بی ایس کو مطلق العنان حکمرانی اور زیادہ رویوں کی بنا پر محدود یا برخاست کرے، لیکن ان افواہوں کے سلسلے میں کسی قسم کے شواہد سامنے نہيں آئے ہیں۔ وہ بدستور سعودیوں کے مستقبل کی امید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اتنی جلدی اقتدار کی دوڑ اور تاج و تخت کے حصول کے لئے ہونے والی مسابقت سے ہٹ جائے تو اقتدار کا خلا (27) پیدا ہوگا۔ سعودی حکمرانی کا مستقبل اس وقت استحکام کسی وقت روشن مستقبل کی دہائی دے رہا تھا، لیکن یہ تصور مزید غیر حقیقت پسندانہ اور قبل از وقت ہے۔ (28)
امریکہ پر لازم ہے کہ سعودیوں کو جنگ یمن کے خاتمے پر مجبور کرے
کونسل برای بیرونی روابط  
"شکاگو کونسل برائے عالمی امور" (29) کا سربراہ "ایوو ڈالڈر (30) اور اور "کونسل برائے بیرونی روابط" (31) کے سینئر نائب صدر "جیمز لنڈسے" (32) نے اپنے مشترکہ مضمون بعنوان  "ٹرمپ کو کس طرح سعودی عرب سے نمٹنا چاہئے، جو وہ شاید نہ نمٹنا چاہے؟" (33) میں ٹرمپ اور سعودی عرب پر تنقید کی ہے، سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی نیز یمن پر مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: "جب تک کہ خاشقجی قتل کیس کے بارے میں تحقیقات مکمل نہيں ہوتیں، اور جب تک مجرمین کو عدالت کے کٹہرے میں نہ لاکھڑا کیا جاتا، امریکہ کو چاہئے کہ سعودیوں کو اسلحے کی فراہمی معطل کرے اور اپنے حلیفوں کو بھی ایسا کرنے پر آمادہ کرے۔ سعودی عرب اپنے اسلحے، اور تربیت و نگہداشت کے سلسلے میں مکمل طور پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے وابستہ ہے۔ چنانچہ دباؤ کا ایک ذریعہ تشکیل پایا ہے۔ سعودیوں نے امریکی اور مغربی ہتھیاروں پر حد سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے چنانچہ وہ فوری طور پر روسی یا چینی ہتھیاروں کو متبادل کے طور پر نہیں اپنا سکتا"۔ (34)
ان امریکی ماہرین نے مزید لکھا ہے: "اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ سعودی عرب پر دباؤ ڈال کر اسے مجبور کیا جائے کہ یمن پر بےمقصد بمباری اور وحشیانہ جنگ کو فوری طور پر بند کردے۔ ایم بی ایس نے چار سال سے ایک بےمقصد اور بےانجام جنگی مشن کا آغاز کیا ہے جس کا ظاہری مقصد تو جزیرہ نمائے عرب میں ایران کا اثر و رسوخ ختم کرنا ہے، لیکن وہ اس جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے سوا اس کے اس نے دسوں ہزار یمنیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، لاکھوں کو زخمی کیا ہے اور کروڑوں کو بھوک اور بیماری سے دوچار کردیا ہے۔ امریکہ کی معلوماتی اور عسکری امداد کے بغیر، یمن پر سعودی اور اماراتی بمباری کا جلد از جلد خاتمہ ہوگا"۔
سعودی عرب کو جوہری ملک نہیں بننا چاہئے
جرمن مارشل فنڈ
جریدہ "وال اسٹریٹ جرنل" (35) نے امریکی تھنک ٹینک "جرمن مارشل" (36) کے ماہر "جیمی فلائی" (37) اور "عدم پھیلاؤ کے پالیسی تعلیمی مرکز" (38) کے ڈائریکٹر "ہینری سوکولوسکی (39) کی مشترکہ یادداشت شائع کی ہے۔ اس یادداشت میں وائٹ ہاؤس کو سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی قسم کے جوہری تعاون سے خبردار کیا گیا۔ مذکورہ دو قلمکار لکھتے ہیں: "جمال خاشقجی کے سلسلے میں سعودی حکومت کے دعؤوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو ریاض پر زیادہ اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ امریکہ کو خاص طور جوہری ٹیکنالوجی کسی صورت میں بھی سعودی عرب کے حوالے نہیں کرنا چاہئے"۔
اس یادداشت میں کہا گیا ہے: "سعودی حکام ـ بالخصوص ایم بی ایس نے اعلانیہ طور پر دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں یقین ہوجائے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کرلئے ہیں تو وہ "جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے" کو اپنے پاؤں تلے روند لیں گے۔ امریکہ کو کسی بھی ایسے ملک کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے جو دوسرے ممالک کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دیتے رہے ہیں اور جس نے ابھی تک "معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ" (40) پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ ریاض افزودگی اور ری پروسیسنگ کے ذریعے بہت جلد جوہری اسلحے تک رسائی حاصل کرسکے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون کے سلسلے میں ہر قسم کے مذاکرات کا سسلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ خاشقجی کے قتل پر رد عمل نہ دکھائے اور اس قسم کے مذاکرات کو نہ روکے، تو کانگریس کو میدان میں آنا چاہئے اعلان کرنا چاہئے کہ اگر سعودی عرب کے ساتھ اس قسم کے کسی معاہدے پر دستخط ہوئے ـ تو چونکہ بین الاقوامی معاہدے حتمی منظوری کے لئے کانگریس میں بھجوائے جاتے ہیں ـ وہ اس کو منجمد کرے گی۔
ایم بی ایس کا انجام آخرکار کیا ہوگا؟
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایم بی ایس اپنے باپ کے جانشین کے طور پر تاج و تخت پر اپنا قابو برقرار رکھ سکے گا؟
لگتا ہے کہ ملکی معاملات پر ایم بی ایس کا کنٹرول کافی حد تک سست پڑ گیا ہے۔ گذشتہ سال تک گمان غالب یہی تھا کہ محمد بن نائف شاہ سلمان کا بلاچون و چرا جانشین ہے۔ لیکن بعدازاں شاہ سلمان نے اس وقت کے ولیعہد کو کھڈے لائن لگا کر اپنے بیٹے کی ولیعہدی کے لئے راہ ہموار کردی۔
ویب گاہ "ایکسیوس"
ویب گاہ "ایکسیوس" (41) کے مطابق، "اسٹیو لی وائن" (42) نے اپنے مضمون بعنوان "خاشقجی قتل کے بحران نے سعودی ولیعہد کی روز افزون کمزوری کا سبب" (43) کے ضمن میں سی آئی اے کی سابق تجزیہ نگار، "ہیلیما کرافٹ" (44) کے حوالے سے لکھا ہے: "اگر موجودہ بحران شدت اختیار کرے تو ممکن ہے کہ اندرونی سطح پر ایم بی ایس کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ متزلزل ہوجائے۔ خاندان بنی سعود کی اندرونی فضا گونگی، مبہم اور غیر واضح ہے، لیکن یہ بظاہر یہ خاندان اپنی [خاندانی] بقاء کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے"۔ (45)
تھنک ٹینک "اٹلانٹک کونسل"  (46) کے ڈائریکٹر "میتھیو بروز" (47) نے بھی ایکسیوس کے ساتھ اپنے مکالمے میں کہا: "ایم بی ایس کی برخاستگی بہت ممکن ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ٹرمپ کانگریس اور رائے عامہ کے دباؤ کے تحت سعودی عرب کو ہتھیار کی فراہمی معطل کردے اور امریکہ کے اندر کے کاروبار اور تاجر برادری [اور مقتدر بھنیوں] کو رائے عامہ کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے اور وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایم بی ایس کے ساتھ تعاون انہیں بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ وہاں ایسے بہت سے دوسرے شہزادے بھی ہیں جو محمد بن سلمان کی جگہ لے سکتے ہیں"۔
امریکی ماہر سیاسیات تھنک ٹینک "یوریشیا گروپ" (48) کے سربراہ "یان بریمر" (49) نے ایکسیوس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے ولیعہد کی برطرفی کا فیصلہ میرے لئے حیران کن ہوگا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اگلے مہینوں میں اندرونی کشمکش سے محفوظ رہے گا، بالخصوص، اگر بیرونی دنیا میں سعودی پالیسیوں کو اچھی طرح سے آگے نہ بڑھایا جاسکے"۔
بہرصورت، ایم بی ایس کا مستقبل اس کے باپ کے ہاتھ میں ہے، اگرچہ شاید وہ بھی یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے سے عاجز ہو۔ نیز اس کا مستقبل ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے اور وہ تنہا بھی ـ امریکی مفادات کے تحفظ کی روشنی میں ـ اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔ ٹرمپ اگر آج یہ کام نہ کرے تو شاید اسے کل یہ کام کرنا ہی پڑے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ایم بی ایس یقینا اپنے خطرناک اور عجلت زدہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اگر وہ کوئی قیمت چکائے بغیر خاشقجی قتل کیس کے خطرناک نتائج سے جان بچائے تو یہ اقدامات مستقبل میں پورے زور و شور سے جاری رہیں گے۔
ایم بی ایس کی طرف سے ایران کو بڑا تحفہ
یہ ماجرا جو بھی ہے، قارئین کے سامنے ہے اور اس کے بہت سے پہلے مستقبل میں روش ہونگے لیکن ایک اہم نکتہ واشنگٹن کے جان ہاپکینز اسکول برائے اعلی بین الاقوامی مطالعات کے ڈین اور امریکی تھنک ٹینک "بروکینگز انسٹٹیوشن" (50) کی خارجہ پالیسی کے سینئر رکن، نیز نیویارک ٹائمز کے کالم نویس پروفیسر ولی نصر (ولی رضا نصر) نے نیویارک ٹایمز میں چھپنے والے مضمون کے ضمن میں بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ "سعودیوں نے جمال خاشقجی کو قتل کرکے ایران کو نہایت قابل قدر تحفہ بھیج دیا ہے۔ اور وہ یہ سعودی عرب پر ڈالے جانے والے دباؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ حتی شاید ٹرمپ کی نظروں میں بھی سعودی عرب ـ جو کہ امریکی تزویری حکمت عملی کا دل ہے ـ کی معتبریت کس قدر گر چکی ہے"۔ (51)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشیہ جات و حوالہ جات:
1۔ Modernization
2۔ Foreign Affairs Magazine
3۔ London School of Economics
4۔ Social Anthropology
5۔ Madawi al-Rasheed
6۔ Why the U.S. Can’t Control MBS?
7۔ Reining in the Rogue Prince
8۔ https://www.foreignaffairs.com/articles/saudi-arabia/2018-11-05/why-us-cant-control-mbs
9۔ Council on Foreign Relations
10۔ Richard N. Haass
11۔ https://www.cfr.org/article/us-must-shed-its-illusions-about-saudi-arabias-crown-prince
12۔ U.S. Must Shed Its Illusions About Saudi Arabia’s Crown Prince
13۔ One tenth
14۔ Shareholders
15۔ Belfer Center for Science and International Affairs
16۔ The potential massive consequences of the Khashoggi murder
17۔ https://www.belfercenter.org/publication/potential-massive-consequences-khashoggi-murder
18۔ Independent civil society
19۔ Cato Institute
20۔ Doug Bandow
21۔ The Crown Prince Is a Total Fraud
22۔ https://www.cato.org/publications/commentary/crown-prince-total-fraud
23۔ Risk
24۔ The Washington Institute
25۔ Simon Henderson
26۔ What Does Khashoggi’s Murder Tell Us About the Saudi Power Structure?
27۔ Power vacuum
28۔ https://www.washingtoninstitute.org/policy-analysis/view/what-does-khashoggis-murder-tell-us-about-the-saudi-power-structure
29۔ Chicago Council on Global Affairs
30۔ Ivo H. Daalder
31۔ Council for Foreign Relations [CFR]
32۔ James M. Lindsay
33۔ How Trump Should, but Probably Won't, Confront Saudi Arabia
34۔ https://www.cfr.org/article/commentary-how-trump-should-probably-wont-confront-saudi-arabia
35۔ https://www.wsj.com/articles/khashoggis-killing-should-be-a-nuclear-red-flag-1540753005
36۔ German Marshall Fund [GMF]
37۔ Jamie Fly
38۔ Nonproliferation Policy Education Center [NPEC]
39۔ Henry Sokolski
40۔ Treaty on the Non-Proliferation of Nuclear Weapons
41۔ Axios website
42۔ Steve LeVine
43۔ Khashoggi crisis Saudi crown prince increasingly vulnerable
44۔ Helima Croft
45۔ https://www.axios.com/khashoggi-crisis-saudi-crown-prince-increasingly-vulnerable-24a922c3-8316-4523-bd13-e09fdda4750f.html
46۔ Atlantic Council
47۔ Mathew Burrows
48۔ Eurasia Group
49۔ Ian Bremmer
50۔ Brookings Institution
51۔ https://www.nytimes.com/2018/11/12/opinion/saudi-murder-jamal-khashoggi-iran.html
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.taghribnews.com/fa/doc/news/382348

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰