11 نومبر 2018 - 16:02
ہم حب الوطنی کے قائل ہیں جو نافلہ ہے لیکن فریضہ "یا علی(ع)" کا پرچم ہے

ایران اللہ کے فضل نیز اسلامی انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کی برکت سے نیند سے جاگ اٹھا، لیکن ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس چیز نے اس ملک کے سہ رنگی پرچم کو تحفظ فراہم کیا وہ "یا علی(ع)، یا زہراء(س) اور یا حسین(ع)" کے پرچم تھے۔ ہم حب الوطنی کے قائل ہیں لیکن وطن کی محبت نافلہ ہے اور جو کچھ فریضہ ہے وہ یا علی(ع) کا پرچم ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی نے کربلائے معلی کے سفر سے واپسی پر ملاقات کے لئے آنے والے ادارہ اربعین کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارے ہاں حب الوطنی ہے لیکن یہ ایک نافلہ ہے اور جو کچھ واجب اور فریضہ ہے وہ پرچم یا علی(ع) ہے۔
خطاب کے بنیادی نکات:
پہلا اصول یہ ہے کہ قرآن کریم ـ جو کہ عالم اسلامی کا بنیادی قانون (آئین) ہے ـ کے بیان کے مطابق، ہماری ذمہ داری ہے کہ تین "اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی" شعبوں کے ساتھ رابطہ اور تعلق استوار کریں اور جان لیں کہ ان تینوں شعبوں میں ہم اس طرح سے عمل کریں [جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کیونکہ] قرآن کریم نے ان تین شعبوں میں رابطوں کی صحیح روش بیان کی ہے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ ایران اللہ کے فضل نیز اسلامی انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کی برکت سے نیند سے جاگ اٹھا، لیکن ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس چیز نے اس ملک کے سہ رنگی پرچم کو تحفظ فراہم کیا وہ "یا علی(ع)، یا زہراء(س) اور یا حسین(ع)" کے پرچم تھے۔ ہم حب الوطنی کے قائل ہیں لیکن وطن کی محبت نافلہ ہے اور جو کچھ فریضہ ہے وہ یا علی(ع) کا پرچم ہے۔
دشمن نے دو سال تک خانہ جنگی اور آٹھ سال تک بیرونی جنگ ہم پر مسلط کی اور ہم در حقیقت 10 سال تک جنگوں میں الجھے رہے۔ اس پوری مدت میں جس چیز نے بنیادی کام کیا اور جس نے فیصلہ کن کردار ادا کیا وہ یہی  "یا علی(ع)، یا زہراء(س)" کے پرچم تھے؛ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم معاد پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ موت کے بعد بھی کچھ ہے، اور یہ کہ انسان مر کر فنا نہیں ہوجاتا بلکہ ایک کھال سے نکل کر باہر آتا ہے، اور یہ کہ انسان ابدی ہے لہذا اس ابدی مخلوق کی فکر بھی ابدی ہونا چاہئے، اور اس کا سے صرف دین خدا عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔
اتنے سارے بادشاہ، اتنی ساری سلطنتیں تاریخ میں ابھریں لیکن دنیا میں ایک بالشت برابر مٹی بھی ان کے نام نہیں رہی ہے لیکن دیکھ تو لیں کہ حسین بن علی(ع) خالی ہاتھوں دنیا پر چھا گئے ہیں، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی راز ضرور ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰