31 اگست 2018 - 17:47
35 اے معاملے پر ریاستی عوام کا فقید المثال ہڑتال بھارت کے لئے نوشتہ دیوار: آغا حسن

آغا حسن نے کہا کہ بی جے پی اپنی جار حانہ کشمیر پالیسی کے سہارے کافی دیر تک حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہے تاہم بھارت کا انصاف پسند طبقہ اور کشمیری عوام ایسے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیگے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے 35 اےکو منسوخ کرانے کی بی جے پی حکومت کی بھر پور کوششوں کو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے تشخص اور محفوظ مستقبل کے لئے جاری جدوجہد پر کاری ضرب لگانے کا بدترین حربہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تنازعہ کشمیر کے حتمی حل تک آئین ہند میں موجود ریاست کی خصوصی پوزیشن والے دفعات اور قوانین کی حفاظت ناگزیر ہے اور اس معاملے میں سیاسی اختلاف راے کو بالائے طاق رکھ کر ریاستی عوام ہمہ گیر مزاحمت کے لئے ہمہ وقت آمادہ ہیں 35اے کے معاملے پر متحدہ مزاحمتی قیادت اور دیگر سماجی و دینی تنظیموں کی کال پر ریاست جموں و کشمیر باالخصوص اہلیان وادی کے فقید المثال احتجاجی ہڑتال کو حکومت ہند کے لئے نوشتہ دیوار سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اگر عدالت عظمیٰ کا سہارا لے کر ایسے دفعات سے چھیڑ کھانی کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور ان دفعات کی منسوخی کے لئے کوئی ناعاقبت اندیش اقدام کیا گیا تو ریاست جموں و کشمیر میں ایک ایسی آ گ بھڑک اٹھے گی جس کو بجانا بھارت کے لئے آسان نہیں ہوگا آغا حسن نے کہا کہ بی جے پی اپنی جار حانہ کشمیر پالیسی کے سہارے کافی دیر تک حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہے تاہم بھارت کا انصاف پسند طبقہ اور کشمیری عوام ایسے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیگے انھوں نے کہا کہ 35اے کی حفاظت کے معاملے پر ریاست جموں و کشمیر کا ہر فرد سنجیدہ ہے اس معاملے پر سنجیدہ اور لا مثال احتجاجی ہڑتال پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ ایسے نوعیت کے حساس معاملوں پر قوم بھر پور اتحاد و اتفاق اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرکے بھارت کے عزائیم پر پانی پھیر دیںگے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی خانہ نظر بندی کی زور الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ دینی مزاحمتی قائدین کی خانہ نظر بندی سے عوامی ردعمل یا حالات کا رخ تبدیل نہیں کیا جاسکتا آغا صاحب گزشتہ دو دن سے متواتر خانہ نظر بند ہے جس کے با عث مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیش وائی کے فرائض انجام نہ دے سکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲