20 فروری 2018 - 19:37
دفتر رہبری کی جانب سے امام باڑہ سبطین آباد میں دوروزہ مجالس کا انعقاد، بڑی تعداد میں شریک ہوئے عزادار

مولانا نے آخر مجلس میں ان کج فکر افراد کی مذمت کی جو مرجعیت اور رہبریت کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کی یاد میں دفتر رہبری دہلی نو کی جانب سے امام باڑہ سبطین آباد حضرت گنج میں دوروزہ مجالس کے سلسلے کی پہلی مجلس کو مولانا سید حمیدالحسن سربراہ جامعہ ناظمیہ نے خطاب کیا ۔مجلس کا آغا قاری معصوم مہدی نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔’مولانا سید حمیدالحسن نے ’اسلام میں طہارت و پاکیزگی کا تصور‘‘ کے موضوع پر  خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کا ہر مذہب انسان کو پاکیزگی کا تصور دیتاہے اور اسلام انکی نمائندگی کرتاہے ۔مولانانے کہاکہ قرآن کا تصور طہارت بہت جداگانہ ہے ۔دنیا جسے طہارت تصورکرتی ہے وہ سطحی اور ظاہری تصور ہے ۔اسلام کا تصور طہارت ان افراد کی عقل و فہم سے بالا تر ہے جو مذہب بیزار ہیں اور مذہب کی حقانیت کے قائل نہیں ہیں۔مولانا نے کہاکہ اسلام چاہتاہے کہ انسان پاک و صاف نظر آئے مگر اسلام فقط ظاہری طہارت کا قائل نہیں ہے بلکہ ظاہر کی طہارت کے ساتھ باطن کی طہارت کا قائل ہے ۔اسلام چاہتاہے کہ انسان جس طرح اپنے جسم اور لباس کو پاک و صاف رکھنا چاہتاہے اس سے کہیں زیادہ اپنی روح اور نفس کو پاکیزہ بنائے۔
    مولانا نے دوران گفتگو حضرت فاطمہ زہرا اسلام اللہ علیھا کی سیر ت طیبہ کے اہم اور اچھوتے پہلوئوں کی طرف بھی اشارہ کیا ۔مولانانے کہاکہ حدیثوں میں وارد ہواہے کہ اگر علیؑ نہ ہوتے تو فاطمہ زہرا ؑ کا کوئی کفو نہ ہوتا ۔یہ برابری کا تصورمنفرد ہے ۔حضرت علی ؑ خانہٗ کعبہ میں پیدا ہوئے مگر بی بی فاطمہ ؑ خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوئیں ۔اس طرح برابری کا تصور ختم ہوتا نظر آتاہے مگر جب ہم نے تاریخوں اور حدیث کی کتابوں میں دیکھا کہ کعبہ کا ایک نام قبّۂ آدم ہے اور حضرت خدیجہ ؑ کے گھر کو قبّہ ٔ وحی کہاجاتاہے تو یقین ہوگیا کہ اگر علیؑ نہ ہوتے کوئی رسول کی بیٹی ؑ کا کفو نہ ہوتا۔
    مولانا نے آخر مجلس میں ان کج فکر افراد کی مذمت کی جو مرجعیت اور رہبریت کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں ۔مولانانے کہاکہ جو افراد خود کو بڑا مولائی اور ملنگی کہتے (یقیناَ وہ ہیں)ہیں اور کربلا ،دمشق اور دیگر مقامات مقدسہ زیارتوں کے لئے جاتے ہیں مگر جب داعش نے دمشق میں اور دیگر مقامات مقدسہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اس وقت ایسے افراد کہیں نظر نہیں آتے ۔اگر وہ داعش کے مقابلہ کے لئے نہیں جاسکتے تھے تو آیا انہوں نے کسی اور ذریعہ سے داعش کا مقابلہ کررہے جوانوں کی مدد کی؟۔ لاکھوں جوان داعش سے مقابہ کرتے ہوئے مقامات مقدسہ کی حفاظت میں شہید ہوئے کیونکہ مرجع وقت کا فتویٰ تھا کہ اسلام دشمن طاقت داعش سے مقابلہ کیا جائے ۔اس ایک فتویٰ کی بنیاد پر مرجعیت کی طاقت کو سمجھا جاسکتاہے ۔آخر میں مولانانے جناب فاطمہ زہرا ؑ کی شہادت بیان کی جسے سن کر سامعین نے خوب گریہ کیا ۔مجلس میں بڑی تعداد میں عزاداران سیدہ ٔ  نے شرکت کی ۔
مجلس میں شاہد کمال ، احمد رضا بجنوری قمر عباس قمر،دیدار اکبر پوری،سیف حسین اور کلب عباس نے بارگاہ سیدہ عالمیان میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا  ۔ان مجالس کا اہتمام مجلس علماء ہند نے کیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲