اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیلی اخبار ’یسرائیل ہیوم‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2016ء کی نسبت پچھلے سال غرب اردن میں نئے آباد ہونے والے یہودیوں کی تعداد میں 0.5 فی صد کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق سال 2017ء کے آخر میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں 150 یہودی کالونیوں میں 4 لاکھ 35 ہزار 708 یہودی آباد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء کے دوران 2015ء کی نسبت یہودیوں کی تعداد میں4 فی صد اضافہ ہوا جب کہ اس سے پچھلے سال 3.9 فی کمی آئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء کے دوران بیرون 14 ہزار 299 یہودی آباد کیے گئے،2016ء میں نئے آباد کردہ یہودیوں کی تعداد 15 ہزار 765 تھی۔ گذشتہ برس 1500 یہودی کم تعداد میں فلسطین میں آباد کیے گئے۔
سال 2006ء کے بعد 2016ء میں سب سے زیادہ یہودی آباد کیے گئے۔ ایک سال میں 15 ہزار 320 یہودیوں کو غیرقانونی طورپر آباد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کی تعداد فلسطین میں موجود کل یہودیوں کا 12فی صد ہے جب کہ اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’Now Peace‘ کے مطابق فلسطین میں آباد کیے گئے آباد کاروں کی تعداد فلسطین میں کل یہودیوں کا 13 فی صد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲