اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے مقدس شہر مشہد میں تعینات پاکستان کے نئے قونصل جنرل عرفان محمود بخاری نے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 141ویں سالگرہ کی مناسبت سے پریس کانفرنس کے دوران پاک ایران تعلقات کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
پاکستانی قونصل جنرل نے پریس کانفرنس کے ابتداء میں بابائے قوم کی زندگی کے مختلف پہلووں کو مختصر طور پر اجاگر کرتے ہوئے ان کے پاکستان کے حوالے سے نظریات پر روشنی ڈالی جس کے بعد صحافیوں کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔
محمود بخاری نے صحافیوں کے سوالات کے یکے بعد دیگرے جوابات دئے جس کا مختصر جائزہ نیچے دئے گئے رپورٹ میں لیا جاتا ہے؛
پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے افعال و کردار کے حوالے کچھ نہیں کہونگا لیکن پاکستان ہمیشہ سے دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن پر ہے اور یہ جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ پاکستان سالوں سے اس جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے جس طرح کہ دو روز قبل وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ ہمیں الزام یا دھمکی نہ دیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھیں۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خراسان رضوی میں مختلف سرگرمیوں کے بارے میں غور کررہے ہیں اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کو مزید وسعت دیں خاص طور پر صوبہ خراسان رضوی میں کیونکہ تہران میں موجود پاکستانی سفارتخانہ ملکی سطح پر اقدامات انجام دیتا ہے جبکہ مشہد قونصلیٹ صوبائی سطح پر پابند ہے۔
محمود بخاری نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی طلباء ایران میں اور ایران کے طلباء پاکستان میں تعلیم حاصل کریں، ثقافتی اور اقتصادی روابط کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم مشھد کے مختلف سینماوں میں پاکستانی فلموں کی نمائش کا ارادہ رکھتے ہیں کہ جس میں آپ صحافیوں کے تعاون کے بھی طلبگار ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سے کشمیری عوام کی حمایت کی ہے۔ کشمیر اور فلسطین اقوام متحدہ کی سب سے پرانے مسئلے ہیں جو ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کو کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کو اجرا کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرلیں، پاکستان کا ہرگز موقف یہ نہیں رہا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے بلکہ اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور حق دیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم نے حال ہی میں تین اہم موقعوں پر کشمیر کی بھرپور حمایت کا اعلان کی جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں، کشمیر فلسطین کی مانند عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ایران سے بھی ہماری یہی امید ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کشمیری عوام کی حمایت کریگا۔
پاک ایران تعلقات کے بارے میں قونصل جنرل نے کہا کہ جب ہم ایران کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم صرف ایک ہمسایہ یا برادر ملک کی حوالے سے بات نہیں کرتے بلکہ ہمارے دلوں میں ایران کیلئے خاص قسم کے احساسات ہوتے ہیں، پاک ایران تعلقات کبھی بھی فوجی، حکومتی یا ملکی سطح پر خراب نہیں ہوئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں مثلا سمگلنگ یا سرحد پر بعض بدامنی کے ناخوشگوار واقعات، تو یہ حکومتی سطح پر نہیں ہیں اور ان چھوٹے مسائل سے ہمارے تعلقات پر کوئی گزند نہیں آنے والی۔ جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام نے دورے کئے اور اس کے علاوہ پاک ایران کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں کافی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
بخاری نے کہا کہ یمن کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکسان اس حوالے سے کسی قسم مداخلت نہیں کرتا اور اسی عدم مداخلت کے سبب کافی مالی نقصان بھی اٹھایا ہے اس کی زندہ مثال سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی مزدور ہیں جن میں سے اب تک تقریبا 4 میلین پاکستانیوں کو ڈپورٹ کیا گیا ہے۔ ہم اس مالی نقصان کو برداشت کرنے کیلئے حاضر ہیں لیکن اپنے دوست ممالک سے تعلقات خراب کرنے پر بالکل راضی نہیں ہونگے۔ دوسری جانب ایران کے بھی بھارت کیساتھ بہترین اقتصادی روابط ہیں جس پر پاکستان نے کبھی بھی خدشات کا اظہار نہیں کیا ہے۔ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ بین الاقوامی اصولوں اور قواعد و ضوابط پر پابند رہے چاہے جتنا بھی مالی نقصان کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام نے تہران کا دورہ کرکے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثتی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ مسلم امہ میں اتحاد کی فضا قائم ہو۔
افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی پر انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں گذشتہ 17 سالوں سے کامیابی کے پیچھے دوڑ رہا ہے تاہم تاحال ناکام رہا ہے جبکہ کابل اور واشنگٹن حکومتیں دعویٰ کررہی ہیں کہ اس بحران پر عسکری طاقت کیساتھ قابو پالیں گے لیکن پاکستان اس مسئلے کے فوجی حل کو نفی کرتا ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے، اگرچہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ڈائریکٹ اسٹیک ہولڈر ہے اسی طرح افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ ایران بھی اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کرے۔
ایران اور عراق زیارات کیلئے جانے والے پاکستانی زائرین کے بارے میں بھی ان کا کہنا تھا کہ سالانہ کم سے کم تین لاکھ پاکستانی زیارات مقدسہ کیلئے ایران کا رخ کرتے ہیں حکومت بلوچستان نے اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن پھر بھی بعض مسائل موجود ہیں جن کو حل کرنے کیلئے ایرانی حکام بالخصوص گورنر مشھد اور حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی جناب آقای رئیسی کیساتھ رابطے میں ہیں اور مستقبل قریب میں ان مسائل پر بھی قابو پالیا جائیگا۔
پروگرام کے دوسرے مرحلے میں صحافیوں کو شیلڈ سے نوازا گیا اور اس کے بعد پاکستانی قونصلیٹ کے بنایا گیا جناح ریذیڈنسی ہٹ کا افتتاح بھی کیا گیا۔
قونصل جنرل پاکستان نے اس موقع پر ایرانی صحافیوں کو صوبہ بلوچستان کے علاقے زیارت میں واقع جناح ریذیڈینسی ہٹ کی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم نے اپنے آخری 70 روز زیارت میں قیام کیا تھا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر قائد اعظم محمد علی جناح کی 141ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا اور قونصلیٹ آف پاکستان مشھد نے مہمان صحافیوں کی خوب پذیرائی کی۔
واضح رہے کہ آج ہی کے دن دوپہر 3 بجے مشہد میں پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے اسٹال لگایا جارہا ہے جہاں ایرانی بہنوں بھائیوں کو مٹھائی اور چائے سمیت خوب پذیرائی ملے گی، اسٹال پر بابائے قوم کی تصاویر کیساتھ ساتھ ملی نغمے بھی سنائے جائیں گے جبکہ تسنیم نیوز کی جانب سے ایرانیوں کیلئے کوئز کا پروگرام بھی کیا گیا جس میں فاتح خواتین و حضرات کو تحائف سے نوازا جائیگا۔
.......
/169