اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/مجلس تحفظ اتحاد کا ایک ہنگامی اجلاس انجمن شرعی شیعیان کے صدردفتر پر تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتی پورہ ، ہنجگورہ شولی پورہ میں پیش آئے افسوس ناک واقعہ کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس میں اتی پورہ ہنجگورہ اغوا کاری واقعہ کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا گیا کہ ایسے واقعات کو بنیاد بناکر کسی کو بھی آپسی اتحاد کے ماحول کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بلکہ ایسی غیر شرعی حرکات بالخصوص مذکورہ واقعہ کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے میں مکمل ہم آھنگی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مغویہ لڑکی کی بازیابی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اجلاس میں طے پایا کہ اغوا شدہ لڑکی کی بازیابی اور اغوا کارکی گرفتاری کے بعد اس معاملے کے تمام پہلووں پر غور اور تحقیقات کے بعد مجلس تحفظ اتحاد اغوا کار اور اُس کے معاونین پر شرعی حد جاری کرے گی۔اجلاس میں ایسے واقعات کی سدباب اور مذکورہ واقعہ کی چھان بین کیلئے 15 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ۔ اجلاس میں امرناتھ یاتریوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔آغا حسن نے امرناتھ یاتریوں پر حملے کو کشمیر کی فرقہ وارانہ رواداری، انسانیت دوستی اور کشمیری تہذیب و تمدن کے سراسر منافی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم نے آج تک امرناتھ یاتریوں کی نہ صرف خدمت اور راحت رسانی کے کام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے بلکہ اس یاترا کے حوالے سے گزشتہ کئی سال سے انسانیت دوستی کی کئی مثالیں قائم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں پر قاتلانہ حملہ در اصل کشمیر اور کشمیریوں کی انسانیت دوست اور مہمان نواز تشخص پر حملہ ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے 13 جولائی 1931 کے شہدا کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا کہ 1931 کا سنٹرل جیل سرینگر کے باہر ڈوگرا فوجیوں کی بدترین بربریت کا سانحہ تحریک کشمیر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہی شہدا کی قربانیوں کی بدولت ریاست میں شخصی راج کا خاتمہ ہوا، لیکن جمہوریت صحیح معنوں میں قائم نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ اُن شہیدوں کا مشن ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔ جو تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲