28 اپریل 2017 - 16:04
سوشل میڈیا پر پابندی فورسز کے انسانیت سوز مظالم کی پردہ پوشی کی کوشش: آغا حسن

مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کے دوران آغا صاحب نے مزاحمتی قائدین اور کارکنان کی گرفتاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تحریک اُس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے وادی کشمیر میں سوشل میڈیا پر حکومتی پابندی کو ریاستی انتظامیہ کی بے بسی اور فورسز کے انسانیت سوز کاروائیوں کی پردہ پوشی سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر مکمل قدغن سے فورسز کے مظالم عوام سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کے دوران آغا صاحب نے مزاحمتی قائدین اور کارکنان کی گرفتاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تحریک اُس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں قائدین کی گرفتاریاں عوام کے تحریکی جذبات اور تحریکی پروگرموں پر اثر انداز نہیں ہوکتے۔ آغا صاحب نے پنزگام کپواڑہ میں نہتے عوام پر فورسز کی وحشیانہ کاروائیوں کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ایک معمر شخص کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کودبانے کیلئے جن سینا کی تشکیل کے منصوبے کو دلی کی بزدلی اور بدحواسی کا کھلا ثبوت قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے واضح کیا کہ جب کشمیر میں تعینات بھارت کی 7 لاکھ فوج مکمل اختیارات اور بربریت کی کھلی چھوٹ کے باوجود کشمیریوں کی برحق آواز کو نہ دباسکی تو نام نہاد جن سینا کس کھیت کی مولی ہے۔آغا صاحب نے کہا کہ مالی مراعات تنازعہ کشمیر کا حل نہیں اور کسی بھی بڑے سے بڑے مالی پیکیج سے کشمیریوں کے جذبات اور خواہشات کا رُخ نہیں موڑا جاسکتا۔ آغا صاحب نے کشمیری طلاب پر جاری فورسز کے جبرو تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کاروائیوں کا مہذب دنیا میں کوئی بھی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲