6 مارچ 2017 - 20:01
حکومت امریکہ میں اندرونی اختلافات میں شدت

امریکہ کی موجودہ صدر کی جانب سے سابق صدر پر نامزد امیدواروں کے انتخابی مراکز کے ٹیلی فون سننے کے الزامات کے بعد، حکومت امریکہ میں اندرونی جنگ شروع ہو گئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت نے امریکی کانگریس سے اپیل کی ہے وہ انتخابات میں کامیابی سے پہلے ٹیلی فونی گفتگو سنے جانے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کی تحقیقات کرے۔

شون اسپائسر کا کہنا تھا کہ کانگریس کو اوبامامہ انتظامیہ کی جانب سے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاسوسی کیے جانے کی تحقیقات کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں روس کے اثرانداز ہونے سے متعلق تحقیقات میں، سابق صدر براک اوباما کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے کو شامل کیا جائے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کیون لوئیس نے وائٹ ہاوس کے الزامات کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں سابق صدر براک اوباما پر صدارتی انتخابی مہم کے دوران، اپنے ٹیلی فون کنٹرول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ براک اوباما نے انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ٹرمپ ٹاور کے ٹیلی فونی رابطوں کی جاسوسی کا حکم دیا تھا۔
انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی روسی سفیر سے خفیہ ٹیلی فونی گفتگو کا معاملہ سامنے آنے کے بعد، اوباما انتظامیہ کی جانب سے ٹرمپ کی جاسوسی کیے جانے کے شبہات کو تقویت ملی ہے۔
درایں اثنا امریکہ کے ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے اندرونی معاملات سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لیے بے بنیاد سازش کا شور مچا رہے ہیں۔
کانگریس کے ری پبلکن ارکان نے بھی ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹیوں کو اپنا کام کرنے دیں۔
ادھر ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے کہا ہے کہ وہ امریکی وزارت قانون سے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
ٹرمپ ٹاور کے ٹیلی مکالمات کی شنوائی کا معاملہ پہلے بھی موجودہ اور سابق حکومتوں کے درمیان تنازعہ بنا ہوا تھا لیکن اب یہ معاملہ خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر داخل ہو گیا ہے۔
ٹرمپ کے دعوے میں بالواسطہ طور پر ایف بی آئی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ ٹرمپ ٹاور کی جاسوسی میں اصل الزام اسی پر آئے گا۔ اور اگر یہ الزام ثابت ہو گیا تب بھی، ایف بی آئی پر الزم آئے گا کہ وہ ری پبلکن امیدوار کے انتخابی دفتر کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی اقتدار کے ایوانوں میں ٹھنی اس جنگ کا دائرہ روز بروز وسیع تر ہوتا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169