26 فروری 2017 - 20:18
موصل کی آزادی کے بعد عراق میں بڑی تبدیلی رونما ہو گی: امریکی تجزیہ نگار

انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ملک کی سرحدیں مکمل طور پر سیل ہیں تاکہ شام سے تکفیری دہشتگرد اس ملک میں دوبارہ دراندازی نہ کر سکیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور  ویٹر نز ٹوڈے کے منیجنگ ڈائر یکٹر کے  نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عراق  میں سعودی وترکی اپنے ناجائز مقاصد کا تعاقب کررہے ہیں کہا کہ اسٹریٹیجک شہر موصل کی مکمل آزادی کے فوراً بعد دہشتگردوں کو عراق میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے حکومت بغداد کو شام ،ترکی اور سعودی عرب سے ملحق سر حدں پر ہزاروں فوجیں تعئنات کرنے کی ضرورت ہوگی ۔

پریس ٹی وی کے ساتھ انٹریومیں ’’جم ڈبلیو ڈین ‘‘ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عراق میں سعودی وترکی اپنے ناجائز مقاصد کا تعاقب کررہے ہیں کہا کہ اسٹریٹیجک شہر موصل کی مکمل آزادی کے فوراً بعد دہشتگردوں کو عراق میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے حکومت بغداد کو شام ،ترکی اور سعودی عرب سے ملحق سر حدں پر ہزاروں فوجیں تعئنات کرنے کی ضرورت ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ملک کی سرحدیں مکمل طور پر سیل ہیں تاکہ شام سے تکفیری دہشتگرد اس ملک میں دوبارہ دراندازی نہ کر سکیں ۔

انہوں نے اس رپورٹ کہ داعشی عناصر عراق سے شام فرار ہورہے ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام میں داعش کے گڑھ رقہ کا  سکوت ہوجاتا ہے تو پھر دہشتگرد عراق کی سرحد کی طرف بھاگ جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر عراقی فوج  شام ،ترکی اور سعودی عرب سے ملحق سرحدی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں پھر ملک پر کبھی بھی ان کا کنٹرول نہیں رہے گا ۔

انہوں نے کہا کہ موصل کی مکمل آزادی کے ساتھ عراق میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہے کیونکہ عراقی فوجیں آزاد ہوجائیں گی اور انہیں شام روانہ کیا جاسکتا ہے اگر دمشق حکومت دہشتگردی کےخلاف جنگ میں بغداد حکومت سے مدد طلب کرتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی فوج کو احساس ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انکی فتح  دہشتگردوں کی شکست میں مضمر ہے ۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کو نسل کے کچھ اراکین مشرق وسطیٰ علاقے میں تکفیری دہشتگردوں کی معاونت کررہے ہیں ۔

ڈین نے مزید کہا کہ خود مختار ممالک دہشتگردی کا شکار ہورہے ہیں کیونکہ بعض ممالک پوری استثنیٰ کے ساتھ دہشتگردی کو اسپانسر کررہے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲