اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنئیر ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، مصر، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قریبی تعاون سے علاقائی تعاون کو فروغ اور امن کے قیام کے لئے مدد ملے ہوگی.
يہ بات ايراني مجلس (پارليمنٹ) كے اسپيكر كے مشير برائے بين الاقوامي امور 'حسين امير عبداللھيان' نے ايران كے دورے پر آنے والے شامي اور لبناني عمائدين اور دانشوروں كے وفود كےس اتھ عليحدہ ملاقاتوں ميں گفتگو كرتے ہوئے كہي.
يہ ملاقات اسلامي انقلاب كي 38ويں سالگرہ كي مناسبت سے ہوئي ہے.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ خطے ميں اجتماعي تعاون كے تناظر ميں سعودي عرب كے اقدامات بہت ہي غيرسنجيدہ ہيں كيونكہ رياض حكومت كي ايك مشكل دشمنوں كي عدم شناخت ہے.
انہوں نے كہا كہ بدقسمتي سے سعودي عرب ناجائز صہيوني رياست كي جال ميں پھس چكا ہے اور امريكہ و صہيوني اتحاد پر بھروسہ كركے يمن پر فوجي جارحيت كا آغاز كيا.
يمن ميں انصاراللہ اور ان كے اتحادي گروہوں كو اس ملك كي فعال اور تعميري سياسي تنظيم قرار ديتے ہوئے سنئير ايراني سفارتكار نے بتايا كہ يمن اس كے عوام كا ہے اور يمني سالميت كے دفاع پر يمنيوں كے درميان قومي اتحاد ہے جبكہ سعودي عرب اس وقت يمن كے دلدل ميں پھنس چكا ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ حزب اللہ اور مزاحمتي فرنٹ كي مشتركہ جد و جہد اور جنگ سے ناجائز صہيوني رياست كو بدترين شكست ملي ہے اور اس مزاحمتي عمل سے علاقائي امن و امان بالخصوص لبنان كي سلامتي يقني بن گئي ہے.
اميرعبداللھيان نے بتايا كہ آج شام مزاحمتي عمل كے فرنٹ لائن پہ ہے جس نے دہشتگردوں كا قلع قمع كرنے ميں مثالي فتح حاصل كي ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ايران مزاحمتي فرنٹ كي حمايت كا سلسلہ جاري ركھے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲