13 جنوری 2017 - 15:50
دھشتگردی کی حمایت کرنے والے ممالک کو اپنی غلطیوں کی قیمت ادا چکانا ہو گی: ہندوستانی صحانی

انہوں نے لکھاہےکہ مغرب کے نئےمنصوبوں کا مقصد شام کو کمزور اوردہشتگردوں کی حمایت کے ذریعے اس عرب ملک میں افراتفری مچانا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک معروف ہندوستانی صحافی پروفیسر نے کہاہےکہ مغربی ممالک اور ان کے علاقائی اتحادی منجملہ ترکی ،قطر ،سعودی عرب اور اردن جو گذشتہ کئی سالوں سے شام میں دہشتگردوں کی حمایت کر رہےہیں کو دہشتگردانہ حملوں کی لہر کے ذریعے اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کرنی پڑےگی۔

 ہندوستان کے ایک معروف صحافی وپروفیسر ’’وجے پرساد ‘‘نے اپنے ایک مضمون کہ جسے سے مشہور روزنامہ ’’دی ہندو ‘‘ میں شائع کیاگیا ہے میں لکھا ہے کہ  مغربی ممالک اوران کے علاقائی اتحادی منجملہ ترکی ،قطر ،سعودی عرب اوراردن جو گذشتہ کئی سالوں سے شا م میں دہشتگردوں کی حمایت کررہےہیں کو دہشتگردانہ حملوں کی لہر کے ذریعے اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کرنی پڑےگی۔

انہوں  نے لکھاہےکہ مغربی طاقتوں نے شام میں لیبیا جیسا سیناریو دوہرانے کی کوشش کی لیکن اس ملک کی صور تحال لیبیا سے مختلف تھی۔

انہوں  نے لکھاہےکہ شامی فوج نے ثابت کردیا ہےکہ وہ ایک منظم فوج اوروہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو قلع قمع کرنے کی اہل ہے۔

موصوف ہندوستانی صحافی نے لکھاہےکہ مغربی ممالک نے براہ راست فوجی مداخلت کے منصوبوں میں ناکامی کے بعد نئےحربوں کو اپنایا ہے۔

انہوں  نے لکھاہےکہ مغرب کے نئےمنصوبوں کا مقصد شام کو کمزور اوردہشتگردوں کی حمایت کے ذریعے اس عرب ملک میں افراتفری مچانا ہے۔

وجے پرساد نے لکھاہےکہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگردوں کو ترکی کےراستے ہتھیار فراہم کئےجاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شام میں جنگ بندی اورآستانہ میں آئندہ مذاکرات اس ملک میں جاری بحران کے خاتمے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

قابل ذکر ہےکہ امریکہ ،فرانس ،برطانیہ اوران کے دیگر علاقائی اتحادی شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ ،جیش الاسلام اور احرار الشام کی مجرمانہ کاروائیوں پر پرداہ ڈالتے ہوئےانہیں اعتدال پسند قراردیتے ہیں۔

مغرب کی ان ہی پالیسیوں سے نہ صرف شامی عوام کی جان خطرے میں پڑ گئی ہے بلکہ علاقے نیز عالمی امن وسلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مغرب کی پالیسی عالمی امن کی ضمانت نہیں دے سکتی اورآج کچھ لوگ جو شام  میں دہشتگردوں کے نام سرگرم عمل ہیں شامی عوام کا قتل عام کررہے ہیں اورمستقبل میں جب یہ دہشتگرد اپنے ممالک لوٹ جائیں گے تو مغرب کی سیکورٹی کیلئےخطرہ بن جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲