4 جنوری 2017 - 16:29
شہر حلب کی فتح سعودی عرب، قطر اور ترکی کے لئے شرمناک شکست: شامی ماہر سیاست

شام کے ایک ماہر سیاسیات نے حلب شہر پر شامی فوج اور اسکے اتحادیوں کے کنٹرول کو ترکی، سعودی عرب ،قطر اور تکفیری دہشتگرد گروہوں کے دیگر حامی ممالک کی شرمناک شکست قراردیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے ایک ماہر سیاسیات نے حلب شہر پر شامی فوج اور اسکے اتحادیوں کے کنٹرول کو ترکی، سعودی عرب ،قطر اور تکفیری دہشتگرد گروہوں کے دیگر حامی ممالک کی شرمناک شکست قراردیا ہے۔
 ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں معروف شامی ماہر سیاسیات’’خالد مقصود‘‘نے حلب شہر پر شامی فوج اوراسکے اتحادیوں کے کنٹرول کو ترکی ،سعودی عرب ،قطر اورتکفیری دہشتگرد گروہوں کے دیگر حامی ممالک کی شرمناک شکست قراردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میدان جنگ میں شامی فوج اوراسکے اتحادیوں کی کامیابیوں نے ترکی اورخطے میں دیگر تکفیری دہشتگردوں کی حامی ریاستوں کو گھٹنوں  پرلادیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دہشتگردی کی حمایت کرنے کے خطرناک نتائج بھگتنے  کے بعد ترکی نے شام پر اپنا م موقف تبدیل کیا ہے کہاکہ  تہران  ،ماسکو ،دمشق اورانقرہ  کی ثالثی سے طے پانے والے معاہدے کے تحت تمام دہشتگردوں کو شام چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔

خالد  مقصود نے کہاکہ حلب کی آزادی سے دہشتگردی کے حامی ممالک کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ  دمشق حکومت اورباغیوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ شامی تنازعے کو حل کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

شامی فوج اورمسلح فوج کی جنرل کمانڈ نے گذشتہ جمعرات کو ملک بھر میں لڑائی روکنے کا اعلان کرتے ہوئےکہاکہ ہم جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآ مد کریں گے لیکن داعش ،جبہت النصرہ اوران سے منسلک تمام گروہوں پر اس معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادمیرپوتن نے شام میں نافذ ہونے والے نئےجنگ بندی معاہدے کے حوالے سے کہاتھاکہ تہران ،ماسکو اورانقرہ کی مفاہمت کا نتیجہ شا م میں کامیاب جنگ بندی کی اطلاق ہے اورہم مشترکہ طورپر اس کے پرامن نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد دومزید دستاویزات پر عمل درآمد ہوگا جس کے مطابق شام میں دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدوں کو پائیدار طریقوں پر کام جاری رکھنا اورتیسرے مرحلے میں حکومت اورباغی گروہوں کے درمیان شامی امن مذاکرات کا انعقاد کرانا ہے۔

یاد رہےکہ شامی بحران کے خاتمے کیلئے آئندہ دور کے امن مذاکرات قزاکستان میں منعقد ہونےو الے ہیں جس میں شامی حکومت اورباغی گروہوں کے نمائندے کی شرکت متوقع ہے۔

اسے قبل شام میں متعددبار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ کچھ ماہ قبل جینوا میں امریکہ اورروس نے شام میں دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیاتھا تاہم امریکی افواج نے دیرازور  میں شامی فوج پر حملہ کرکے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲