اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۲۳ جنوری ۲۰۱۵ کو شاہ سلمان نے بادشاہت کی کرسی پر براجمان ہونے سے اب تک خلیج فارس کے علاقے کے ملکوں میں سے متحدہ عرب امارات کا دورے کا پہلا سفر شروع کیا ہے اور یہ وہ سفر ہے کہ جس نے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے ۔
خلیج فارس کے چند ملکوں کا ملک سلمان کا دورے کا سفر اس جنجال کے سائے میں ہو رہا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کو خلیج فارس کے عرب ملکوں کی اتحادیہ میں تبدیل کیا جائے جس کے اندر متعدد پیغامات نہفتہ ہیں ۔
اگر چہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ملک اس خیال کے کہ اس کونسل کو خلیج فارس کے عرب ملکوں کی اتحادیہ میں تبدیل کیا جائے موافق ہیں ،لیکن عمان کا سلطان نشین واحد عرب ملک ہے جو اس خیال کے خلاف ہے جیسا کہ اس ملک کے نظریات بہت ساری چیزوں میں خلیج فارس کے دیگر ملکوں کے خلاف ہیں ،اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک سلمان نے عمان کے سفر کو دورے کے سفر جو وہ کر رہا ہے اس کی فہرست سے خارج کر دیا ہے ۔
روز نامہء العرب کی تحریر کے مطابق ملک سلمان کا یہ اقدام اور عمان کا دورہ نہ کرنا ہو سکتا ہے کہ ملک سلمان کی طرف سے سرزنش آمیز پیغام ہو جس نے مختلف فائلوں کے بارے میں اپنی سیاست کی بنیاد قاطعیت کے محور پر رکھی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ریاض کے حلیف ممالک سعودی عرب کی خارجی سیاست کی حمایت میں اپنے واضح موقف کا اعلان کریں ۔
اس رپورٹ کی بنیاد پرریاض اور مسقط کی سیاست میں بہت سارے مسائل میں تناقض پایا جاتا ہے کہ جن میں سب سے نمایاں ایران کے ساتھ رابطہ ، خلیج فارس تعاون کونسل کے خلیج فارس کے عرب ملکوں کی اتحادیہ میں تبدیل کرنے کا خیال ، اور شام اور یمن کا بحران ہے ۔
حالانکہ عمان خلیج فارس تعاون کونسل کے ، خلیج فارس کے عرب ملکوں کی اتحادیہ میں تبدیل کرنے کے نظریے کے سخت خلاف ہے ،لیکن باقی عرب ملکوں نے اس پیشکش کو کہ جس کو ملک عبد اللہ بن عبد العزیز سعودی عرب کے سابقہ بادشاہ نے سال ۲۰۱۱ میں پیش کیا تھا تائیید کی ہے اور ان کی موافقت کی دلیل بھی معلوم ہے ، اس لیے کہ ان کا ایک اصلی محرک ایران کے خلاف متحدہ پالیسی اختیار کرنا ہے جو ان کے دعوے کے مطابق ایک دھمکی شمار ہوتی ہے حالانکہ ایران اور عمان جو ہرمز کی گھاٹی پر تسلط رکھتے ہیں ان کے تعلقات ہر اعتبار سے بہت اچھے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے سال ۲۰۱۴ میں صدارت کا منصب لینے کے بعد کسی عرب ملک کے اپنے دورے میں سب سے پہلے عمان کا دورہ کیا ۔
اسی طرح عمان کے بادشاہ سلطان قابوس نے بھی ۲۵ اگست ۲۰۱۳ کو ایران کا سفر کیا تھا اور روحانی کے صدر بننے کے بعد کسی عربی رہبر کا یہ تہران کا پہلا دورہ تھا ، حالانکہ اس نے سال ۲۰۱۱ سے اب تک خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور سال ۲۰۱۵ میں اس نے اس اجلاس کی میزبانی بھی قبول نہیں کی ۔
مسقط اور خلیج فارس کے دیگر عرب ملکوں کے درمیان تعلقات بے ہنگم ہیں اور دوسری طرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی علاقے کے بعض مسائل جیسے یمن ،شام اور ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اختلافات موجود ہیں اور حالانکہ خلیج فارس کے ملک مدعی ہیں کہ ایران علاقے کے ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کرتا ہے بعض مبصرین کا یہ عقیدہ ہے کہ ایران اور عمان کے نظریات ملتے ہیں اور عمان کا موقف ایران کے جوہری پروگرام اور یمن اور شام کے بحران کے سلسلے میں واضح طور پر آشکار ہو گیا ۔ اب جبکہ ملک سلمان نے خلیج فارس کے ملکوں کے دورے سے عمان کو حذف کر دیا ہے ،بعض مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ملک سلمان کے اس پیغام کے ساتھ مسقط کیسا برتاو کرے گا ؟ آیا وہ خلیج فارس کے ملکوں اور اس کے درمیان جو دراڑ ہے اس کو کم کرنے کی کوشش کرے گا یا یہ کہ ملک سلمان کے اس اقدام سے اس دراڑ میں اضافہ ہو گااور حالات یہ رخ اختیار کریں گے کہ عمان کے بغیر ہی عرب ملکوں کی اتحادیہ کی تشکیل کا اعلان کر دیا جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲