اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اربعین امام حسین علیہ السلام کے ایام کے موقع پر سب کربلا پہنچنے اور اربعین مارچ میں شرکت کرنے کے لئے تیاریاں اور دوڑ دھوپ کر رہے اور یہاں تک کہ ان میں سے بہت ساروں نے اپنے آپ کو پہلے ہی اس معاملے میں مصروف کر رکھا ہے۔
گزشتہ دو یا تین سالوں میں اربعین امام حسین علیہ السلام کی کہانی نے ایک اور شکل اختیار کرلی ہے جو ایک عظیم لہر کی نشاندہی ہے جس کا مادی لحاظ سے جائزہ لینا ناممکن ہے۔
دلچسپ بات تو یہ کہ امام حسین علیہ السلام کی جاذبیت اور کشش کسی مخصوص دین اور مکتب تک محدود نہیں ہوتی بلکہ امام حسین علیہ السلام کی محبت اور عقیدت دنیا بھر سے کئی لوگوں کو ہر رنگ اور نسل کے انسان کو کربلا کھینچ لاتی ہے اور ان کو اپنے نور سے مزین کردیتے ہیں۔
اربعین مارچ کے دوران جب ہماری گفتگو امام حسین علیہ السلام کے زائرین کرام سے ہوتی ہے اور وطن اور گھر سے بہت دور ہونے کے باوجود ان میں سے بہت ساروں سے ان کی اس عظیم اور نورانی سفر میں موجودگی کی وجہ پوچھتے ہیں تو خود کو اس کے بیان سے عاجز سمجھتے ہیں اور صرف اس جملے پر اکتفاء کرتے ہیں کہ لگتا ہے کوئی چیز ہمیں اپنے ملک سے بہت دور عراق تک کھینچ لائی ہے اور اس سفر میں اتنا جوش و خروش اور عشق و عقیدت ہے کہ کوئی تھکاوٹ محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے روضے پر عزاداروں اور وہاں پہنچنے کے لئے عاشقوں کی بھیڑ میں مختلف ممالک جیسے ہالینڈ، امریکہ، فرانس ۔۔۔ سے نوجوانوں کہ ان میں سے کچھ پہلی بار کربلا آرہے ہوتے ہیں، کی موجودگی قابل دید ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲