26 اپریل 2015 - 05:23
ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ کا اظہار خیال

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ویانا کے حالیہ مذاکرات میں بعض مسائل کے بارے میں ابہام کو دور کیا گیا ہے اور فریق مقابل نے ایران کے خلاف پابندیوں کو ایک ساتھ ختم کرنے کی بات قبول کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر صالحی نے ہفتے کی شب ایران کے ٹی وی چینل ایک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں جزئی مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے اور لوزان مذاکرات کے مشترکہ بیان میں ہم نے نطنز اور اراک کی تنصیبات کے سلسلے میں ایک فریم ورک پر اتفاق کیا اور اب ہم اسے ایک سمجھوتے میں تبدیل کرنے میں کوشاں ہیں۔ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ ایران دنیا میں وہ واحد ترقی پذیر ملک ہے کہ جس نے ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق تمام ٹکنالوجیز تک دسترسی حاصل کر لی ہے اور اب کوئی بھی ایسی ایٹمی ٹکنالوجی نہیں ہے کہ جس تک ایران نے رسائی حاصل نہ کی ہو۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایٹمی مذاکرات تکنیکی، قانونی اور سیاسی مسائل پر مشتمل ہیں،تحقیق اور توسیع و ترقی کو ایٹمی مذاکرات میں ایران کی ریڈ لائن میں سے قرار دیا اور کہا کہ اس بات کی بہت کوشش کی گئی کہ تحقیق اور توسیع و ترقی کا عمل روک دیا جائے، اور مذاکرات کے آخری مرحلے کے طولانی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فریق مقابل تحقیق اور توسیع و ترقی کے عمل کو روکنے پر اصرار کر رہا تھا۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ جو افراد یورینیم کی افزودگی اور بھاری پانی کی تنصیبات کو بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ آج اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی مذاکرات کاروں کی استقامت و پائیداری کے سبب، ایران کی پر امن ایٹمی سرگرمیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور یہ سرگرمیاں ایران میں جاری رہیں گی۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ تہران ری ایکٹر کی طرح ہم ہلکے پانی کا ری ایکٹر بنانے پر ممکل طور پر قادر رکھتے ہیں اور اگر حکومت اس طرح کے ری ایکٹر بنانے کا فیصلہ کر لے تو ہمیں کوئی مشکل نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بڑے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر نہ کریں، چھوٹے شہروں میں چھوٹے ایٹمی بجلی گھر بنائیں کیوں کہ چھوٹے ایٹمی بجلی گھر بنانے سے ہم توانائی کے استعمال کے مقام سے قریب ہو جائیں گے جس کے باعث جنوبی شہروں میں میٹھے پانی کی پیداوار کا امکان میسر ہو جائے گا-

.......

/169