18 اپریل 2015 - 11:50
سرینگر میں بھارتی پرچم نذرآتش، سکیورٹی دستوں کے ساتھ جھڑپیں+تصاویر

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں فوج کے ذریعے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف کل جمعہ کے روز مکمل ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں فوج کے ذریعے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف کل جمعہ کے روز مکمل ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر پر تشدد احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

کشمیر سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سرینگر کے کئی علاقوں میں گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ بعض جگہوں پر سکیورٹی دستوں پر پھتراو بھی ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں نے آنسوں گیس کے گولے داغے ہوائی فائر کئے اور لاٹھی چارج کر دی۔

پولیس نے جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سخت ترین پابندیاں عائد کرکے کسی کو بھی وہاں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی ۔ اس دوران حالیہ ترال ہلاکتوں کے خلاف نمازجمعہ کے موقعوں پر قصبہ ترال، شہر سرینگر، سوپور، پلہالن، شوپیان، بانڈی پورہ، صدرکوٹ، کولگام، نوہٹہ، حبہ کدل، پلوامہ ،اننت ناگ اور دیگر مقامات پرصدائے احتجاج بلند کیا گئی اور کئی مقامات پر پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے ۔ جبکہ شرینگر کے نوہٹہ شہر میں مظاہرین نے بھارت کا پرچم بھی نذرآتش کیا ۔ واضح رہے پولیس نے جمعرات کی شام سے علحیدگی پسند لیڈران کے خلاف کریک ڈون شروع کرتے ہوئے مزاحمتی لیڈران جن میں سید علی شاہ گیلانی، شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان ، اورظفراکبر بٹ وغیرہ شامل ہے کو گھروں میں نظر بند رکھا اور کئی لیڈران کو ترال جانے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ یہ لیڈران حال میں فوج کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جواں سال طالب علم کے گھر تعزیت کے لئے جارہے تھے ۔حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور کشمیری تحریک آزادی کے قائد سید علی شاہ گیلانی نے جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ میں خالد مظفر وانی کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو ترال میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا کیا تھا جبکہ میرواعظ مولوی عمر فاروق نے نماز جمعہ کے موقعے پر احتجاجی مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی ادروں سے اپیل کی تھی۔جس کے پیش نظر لوگوں کو ترال جانے سے روکنے کیلئے حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے اور بعض علاقوں میں سخت ترین ناکہ بندی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔اس مقصد کیلئے ترال اور اونتی پورہ علاقوں کی تمام اہم شاہراہوں اور چوراہوں پرناکے بٹھاکر لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت مسدود کردی گئی تھی۔۔ پولیس کو خدشہ تھا کہ ان علاقوں اور سڑکوں سے لوگ ترال کی طرف مارچ کرسکتے ہیں جس سے امن و قانون کی صورتحال درپیش ہونے کا اندیشہ تھا۔چنانچہ اس خدشے کے پیش نظرمتعدد بستیوں کے ارد گرد پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کچھ ایک علاقوں میں لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔۔ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے طول و عرض میں نماز جمعہ کے فوراً بعد ترال ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند ہوئے۔جس کے دوران کئی مقامات پر پولیس ، نیم فوجی دستوں اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئی جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ادھرحریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کشمیر میں لوگوں کے قتل عام ، حالیہ سانحہ ترال کے خلاف ، کالے قوانین کی واپسی اور جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے مرکزی جامع مسجد سے نماز جمعہ کے بعد ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی ۔ اس موقعے پر عوام نے آزادی کے حق میں اور کشمیر سے کالے قوانین کے خاتمے اور نہتے لوگوں کے قتل عام کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے۔

۲۴۲