12 اپریل 2015 - 04:14
یمن پر آل سعود کی جارحیت سترہویں دن بھی جاری رہی

آل سعود کے نام نہاد اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ یمن پر اب تک ایک ہزار دو سو مرتبہ بمباری کی گئی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے نام نہاد اتحاد کے ترجمان احمد العسیری نے ہفتے کی رات کہا کہ یمن پر حملوں کو سترہ دن ہو رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ یمن پر حملے جاری رہیں گے- آل سعود کے اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ یمن پر فضائی حملوں کا مقصد یمنی فوج کی اینٹی ایر کرافٹ توانائی اور بیلسٹک میزائلوں کے اڈوں کو تباہ کرنا ہے- العسیری نے آل سعود کے حملوں میں جان بحق ہونے والے نو سو افراد کی جانب اشارہ کئے بغیر کہا کہ آل سعود اور اس کے اتحادیوں کے حملے فوجی یونٹوں، شہر عدن اور شبوہ میں فوجی اڈوں پر مرکوز رہے ہیں اور ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک سو بیس حملے کئے گئے ہیں- ادھر یمن کے ذرائع نے کہا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آل سعود کی جارحیت میں صنعا، الجوف اور مآرب کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں کم از کم پندرہ افراد شہید اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب صنعا میں روس کے سفارت خانے کے ترجمان کہا ہے کہ اس شہر میں روس کا قونصل خانہ بند کر دیا گیا ہے اور اس کے ملازمین ماسکو روانہ ہو گئے ہیں- روس نے گذشتہ ہفتے عدن میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا تھا اور اپنے ملازمین کو عدن سے نکال لیا تھا- سعودی عرب کے حملوں میں عدن میں روسی قونصل خانے کو نقصان پہنچا ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ مصر کی فوج کا پہلا دستہ یمن پر حملوں کی غرص سے سعودی عرب پہنچ گیا ہے- پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہزار مصری فوجیوں پر مشتمل اسپیشل آپریشنل دستہ سعودی عرب پہنچا ہے اور انہیں جیزان اور نجران شہروں میں تعینات کیا گیا ہے- جبکہ سعودی عرب میں مزید اڑتالیس ہزار مصری فوجی جائیں گے- اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اسی اسی ہزار فوجیوں کے ساتھ یمن پر زمینی حملے کی تیاریاں کر رہا ہے- متحدہ عرب امارات کے سولہ ہزار، قطر اور کویت کے سات سات ہزار اور بحرین کے پانچ ہزار فوجی اس زمینی حملے میں حصہ لیں گے- سیاسی اور فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دو ہفتوں کے بعد یمن پر زمینی حملے شروع کر سکتا ہے- یمن اور اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق یمن پر آل سعود کی سترہ روز کی فضائی جارحیت میں کم از کم نو سو افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں- جان بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری، خواتین اور بچے شامل ہیں- آل سعود اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں میں لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

.......

/169