13 مارچ 2015 - 14:18
امریکی سینیٹروں کے ایران کے خلاف خط کے پیچھے صیہونی ارب پتی

امریکی میڈیا اور حکام ایک ایسے وقت مین امریکی سینیٹروں کے ایران کے خلاف خط میں صیہونی ارب پتیوں کے کردار کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ جب ثبوت و شواہد امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ان کے کردار اور مداخلت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نیشن نیوز ویب سائٹ نے کئی ماہ پہلے رپورٹ دی تھی کہ صیہونی ارب پتی " شلدون آدلسن" نے "ایٹمی ایران کے خلاف اتحاد" گروہ کی ایک تہائی مالی ضروریات پوری کی ہیں- "ایٹمی ایران کے خلاف اتحاد" نامی گروہ گزشتہ برسوں کے دوران ایران کا بائیکاٹ کرنے کے لیے پریشر گروپوں اور لابیوں میں شامل رہا ہے-

 "پاول سنگر" اور "رچرڈ پرے" دو اور صیہونی ارب پتی ہیں کہ اسرائیل پراجیکٹ نامی گروہ کی مالی ضروریات کو پورا کرنے والے اہم ذرائع ہیں۔ نیشن کو ملنے والی دستاویزات اور ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو صیہونی ارب پتی ایران پر پابندیوں کے حامی، اس انتہا پسند گروہ کا ایک تہائی سے زائد بجٹ فراہم کرتے ہیں۔

 امریکہ کے صدر باراک اوباما نے بھی کچھ عرصہ قبل کانگرس میں ڈیمو کریٹ ارکان کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہاتھا کہ وہ ایران کے بائیکاٹ کے حامی گروہوں کے مالی حامیوں کے خود پر پڑنے والے دباؤ سے آگاہ ہیں- ثبوت و دستاویزات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جن سینیٹروں نے ایران کے خلاف اس خط پر دستخط کیے ہیں، انھوں نے گزشتہ برسوں کے انتخابات میں صیہونی لابیوں سے مالی مدد حاصل کی تھی-

 سینتیس سالہ سینٹیر "ٹام کاٹن" نے کہ جس نے یہ خط تیار کیا تھا، کانگرس کے وسط مدتی انتخابات میں اپنی انتخابی مہم کے لیے صیہونی لابیوں سے ایک ملین ڈالر سے زائد رقم وصول کی تھی-

.......

/169