اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے امور میں امریکہ کی وزارت خارجہ کے سابقہ ماہر اور خارجی روابط کے فکری مرکز کی کمیٹی کے رکن اعلی نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مقالے میں لکھا ہے: ایران اپنے موجودہ محصولات میں اس ملک کے عظیم المرتبت رہبر کی اعلی صلاحیتوں کا مرہون منت ہے ۔
ری تکیہ نے کہ امور ایران میں امریکہ کی وزارت خارجہ کا سابقہ کارشناس اور خارجی روابط کے فکری مرکز کی کمیٹی کا رکن اعلی ہے ،جوہری مذاکرات میں ایران کی موجودہ کامیابی کو رہبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای کی صلاحیتوں کا مرہون منت قرار دیا ۔
موصوف نے اس مضمون میں ،کہ جس کا عنوان ہے؛ ایران کے رہبرعالی کی مجرب حکمت عملی، روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں ایران کے جوہری منصوبے کے سلسلے میں مغرب والوں کی چالوں کے مقابلے میں آیت اللہ العظمی کے ٹھوس موقف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ایسی حالت میں کہ جب آیت اللہ خامنہ ای اپنے موقف پر اٹل تھے عالمی طاقتیں لڑ کھڑا رہی تھیں ۔
تکیہ نے آگے چل کر اس پایداری کے اثرات کی جانب اشارہ کیا اور لکھا ہے کہ واشنگٹن نے آخر کار ایران کی سرزمین کے اندر افزودگی کے عمل کے جاری رکھے جانے کو تسلیم کر لیا ہے اور آخر کار موافقت کی ہے کہ ایران کی افزودگی کی طاقت صنعتی رخ اختیار کر سکتی ہے ۔
اس مغربی تجزیہ نگار نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دعووں کے تکرار کے بارے میں لکھا ہے کہ تہران مغرب کے ساتھ ایک سمجھوتے کا خواہاں ہے تا کہ وہ سیکڑوں ہزار سینٹریفیوز بناکر ،اور ہیوی واٹر کے کئی ری ایکٹر چالو کر کے اور متعدد ایٹمی تنصیبات ایجاد کرنے کے بعد اس چیز سے بچ سکے کہ اس کی صداقت کا امتحان لیا جائے ۔
مغربی ممالک امریکہ کی رہبری میں ایران کے جوہری پروگرام کو فوجی نوعیت کا اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی خاطر مانتے ہیں ۔ایران نے اس کے باوجود ہمیشہ اس دعوے کی تردید کی ہے اور اپنے جوہری پروگرام کے امن پسندی پر مبنی ہونے پر زور دیا ہے ۔
ایران ان ملکوں میں ہے کہ جنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کے روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور یہ سمجھوتہ اپنے رکن ممالک کو پر امن مقاصد کی خاطر افزودگی کا حق دیتا ہے ۔
تکیہ نے اس مضمون کے آخر میں جوہری مذاکرات میں ایران کی کامیابی کو ایران کے رہبر کی صلاحیتوں کا مرہون منت جانا اور لکھا : ایران نے آج جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ایک انکسار پسند عالم کی صلاحیتوں کا مرہون منت ہے ۔
اس نے لکھا ہے کہ حال حاضر میں آیت اللہ خامنہ ای ایک ایسے ملک کے رہنما ہیں کہ جس کی سر حدیں خلیج فارس سے بحر متوسط کے سواحل تک پھیلی ہوئی ہیں ۔
اس مشہور مغربی تجزیہ نگار نے اپنے مضمون کو ان الفاظ پر ختم کیا کہ : وہ یعنی ایران کا رہبر بالکل خالی ہاتھ مذاکرات میں شامل ہوا تھا لیکن اب اس کی پوزشن سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔خدا سچ مچ بڑا ہے ۔
..........
242