اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شروع کے پانچ دن تو پرامن رہے یعنی یہ دور امن کا تھا جب میرے قبیلے والو نے کوئی لاش نہیں اُٹھائی!! لیکن امن کا دور مختصر رہا ۔ یزیدی سپاہ نے 6 فروری کو پارہ چنار میں حبیب حسین نامی شیعہ مومن کو نشانہ بنایا۔ یعنی حسین نے شہادت کی ازان دی فروری مہینے کی پہلی شہادت تھی۔
دو دن بعد یعنی 9 تاریخ کو سپاہ صحابہ کراچی میں حرکت میں آئی اور سندھ کی حکمران جماعت پی پی پی کی عہدیدار احسان دانش کو نشانہ بنایا۔ اُسی دن دہشتگردوں نے نارتھ کراچی میں نعمان علی کو شہید کردیا۔
بدقسمتی سے یہ سب آپ کے سامنے بیان کرنے والا زندہ رہا۔ تین دن بعد یعنی 13 فروری کو پشاور میں نماز جمعہ کے موقعے پر ابن ملجم کی اولادں نے پشاور کے مقامی امام بارگاہ میں دھماکہ کردیا جس میں 20 کے قریب نمازی اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ اللہ سے جاملے۔ اگلے ہی دن جب کاندھوں پر 20 مومنین کی لاشوں کا وزن تھا تو کراچی میں عرفان علی نامی مومن کی لاش سامنے پڑی تھی۔ کندھوں میں بلند جنازوں کو دفنایا گیا اور پھر عرفان کو کو بھی خاک کے حوالے کردیا گیا۔
سفیانی سوچ کے بیمار یزیدیوں نے امیر شام کی طرح اپنی کاروائی جاری رکھی۔ 18 فورری راولپنڈی کے امام بارگاہ پر دھماکہ ہوا اور 4 مومنین جام شہادت نوش کرکے زیارت ابوتراب(ع) کی خاطر تُراب(مٹی) کے حوالے ہوئے۔ اُسی دن مانسہرہ میں بھی مقامی شیعہ رہنما شاہ محمود رضوی اپنے جد امجد امام رضاؑ کی طرح شہادت جیسے اعلی درجے پر فائز ہوگئے۔
دوبارہ امن کا وقفہ آگیا۔ 27 فروری کو پھر دہشت گرد حرکت میں آئے اور کراچی میں ایم کیو ایم کے دو شیعہ کارکنوں، علی حیدر اور سلیم اصغر کو شہید کردیا۔ اُسی دن پشاور میں قیصر حسین بھی نشانہ بنے،
مہینہ ختم ہوا اور "خونی قلم" کو بند کردیا گیا لیکن صفعے پر 32 جنازے تھے۔ اور آس پاس رونے کی چیخ و پکار، تنہا کمرے میں بیٹھا میں یعنی بندہ قمبر سوچ رہا ہے، ان سب کا اختتام بھی ہے۔ مجھے شوق نہیں خون لکھنے کا۔ میں نہیں دیکھنا چاہتا اپنے لوگوں کو کفن میں، مجھے اپنی قوم کی بیٹیاں جو ان جنازوں سے لپٹی رورہی ہیں, بلکل پسند نہیں!! قوم کے لیے دُعا ہے کے وہ جلد اس سفر سے باہر نکلے اور قوم میرے لیے دُعا کریں جلد از جلد میں اس خون کہانی لکھنے کا پابند نا رہوں!
تحریر:بندہ قمبر
.......
/169