27 فروری 2015 - 19:42

برطانوی مسلمان اراکین پارلمان نے داعش کو اسلامی ریاست لکھے اور پکارے کی جانے کی مخالفت کی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے مسلمان اراکین پارلمان رحمن چشتی،خالد محمود اور یاسمین قریشی نے مغربی میڈیا میں داعش کے لئے "اسلامک اسٹیٹ" کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈيوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ داعش کو صرف دہشت گرد تنظیم لکھا اور پکارا جائے- شام اور عراق میں سرگرم بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے لئے مغربی میڈيا اپنی خاص پالیسی کے تحت اسلامی اسٹیٹ کے الفاظ استعمال کررہا ہے اور برطانیہ کا سرکاری ادارہ بی بی سی اس سفاک گروہ کو شروع ہی دن سے اسلامی ریاست کہہ رہا ہے تاہم اب بتایا جاتا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کو صرف اسلامی مملکت لکھا اور پکارا نہ جائے بلکہ اس کے ساتھ نام نہاد کا لفظ ضرور استعمال کیا جائے یا اسے صرف ISIS لکھا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ رحمٰن چشتی کے سوال کے جواب میں ان سے اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردوں کو اسلامی مملکت یا ریاست نہیں لکھا جانا چاہئے کیونکہ یہ کسی بھی صورت میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں ایم پی رحمٰن چشتی نے وزیراعظم کیمرون سے کہا تھا کہ وہ برطانیہ میں داعش کو اسلامی مملکت لکھا اور پکارا نہ جائے کیونکہ یہ دہشت گرد گروپ ہے۔ اس کے پاس کوئی ملک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے۔ اس کو کسی بھی مسلمان ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کو اسلامی مملکت پکارا جانا دنیا بھر کے مسلمانوں کی توہین ہے- ادھر ایم پی یاسمین قریشی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت دہشت گردوں کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی ان کے نظریات کو مانتی ہے۔انہوں نے کامنز میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران ميڈيا سے کو بتایا کہ چند دہشت گرد مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کے واقعات کی مسلمانوں کی اکثریت نے مذمت کی ہے جب کہ خالد محمود ایم پی نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ داعش کو اسلامی مملکت نہ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مغربی دنیا میں ناسمجھی کی وجہ سے اس طرح کے پروپیگنڈے کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو نام نہاد اسلامی مملکت بھی نہ لکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ اسلام کا نام جوڑنا بھی درست نہیں۔ اسے دہشت گرد تنظیم کے نام سے ہی لکھا اور پکارا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ داعش کو اسلامی مملکت لکھ کر ان کے نام کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہر اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کے احکامات پر مغربی میڈیا خاصطور پر اس ملک کا سرکاری ادارہ بی سی سی کس حد تک عمل کرتا ہے-

.......

/169