اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کی بائیں بازو کی جماعت، سی پی آئی ایم نے بدھ کے روز ایک بیان میں جوہری ذمہ داری کے بارے میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو ایک طرح سے ہندوستان کے بنیادی آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے این ڈی اے کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی دباؤ میں آگئی ہے اور یہ سمجھوتہ، واشنگٹن کے مفادات کے آگے، نئی دہلی کے تسلیم ہوجانے کا مظہر ہے۔ ہندوستان کی اس جماعت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جوہری ذمہ داری کے قانون کا مقصد، کسی بھی قسم کا جوہری حادثہ رونما ہونے کی صورت میں تاوان کی ادائیگی سے ہندوستانی شہریوں کے حق کا تحفظ کرنا ہے مگر ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی نے امریکی صدر بارک اوباما کی خواہشات کو پورا کرنے کی غرض سے اس قانون کو نظرانداز کردیا۔ بائیں بازو کی ایک اور جماعت سی پی آئی کے ایک سینیئر لیڈر ڈی راجہ نے بھی ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی کے نام ایک مراسلے میں شہر بھوپال میں یونین کاربائيڈ کے کارخانے سے گیس رسنے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے جوہری تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی بائیں بازو کی جماعتوں نے امریکی صدر بارک اوباما کے دورۂ نئی دہلی سے ایک روز قبل مظاہرہ کرکے امریکی صدر کے اس دورے پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲