1 اکتوبر 2014 - 17:11
 ارجنٹائین کی صدر کی نیویارک میں تقریر میڈیا کا اہم موضوع

ارجنٹائین کی صدر کی نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں زبردست تقریر پوری دنیا کے ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کا اہم موضوع بن گئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارجنٹائین کی صدر کی نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں زبردست تقریر پوری دنیا کے ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ جہاں داعش اور دوسرے دہشتگردوں سے وابستہ ممالک اور گروہ انکی تقریر کی مذمت کر رہے ہیں تو وہیں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا میں صلح و امن کی کوشش کرنے والے ممالک نے انکے اس خطاب کو بہت زیادہ سراہا ہے۔ کرسٹینا فرنانڈز نے اپنی تقریر میں امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے بشار اسد کی حکومت کے مخالفین کی حمایت کی گئی اور ہمیں یہ کہا گیا کہ یہ انقلابی ہیں۔ لیکن آج ہم یہاں پر انہی انقلابیوں کے خؒاف جنگ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں کیوں کہ ہم سب جان گئے ہیں کہ وہ دہشتگرد ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غاصب صہیونی حکومت کی جانب سے ہزاروں فلسطینی بے گناہوں کا خون بہائے جانے پر آنکھیں بند کر لی گئیں اور اسکی جگہ اسرائیل پر فائر کئے جانے والے راکٹوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ وہ راکٹ جن کی وجہ سے اسرائیلیوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج یہاں پر جمع ہوئے ہیں تاکہ داعش اور دوسرے دہشتگرد گروہوں کے خلاف قرارداد پاس کر سکیں حالانکہ ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں بعض ممالک کی جانب سے ان دہشتگردوں کی مالی اور تسلیحاتی مدد کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ارجنٹائین کی صدر کی تقریر کے دوران انکا مائیک بند کر دیا گیا جو اقوام متحدہ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ انکا پر جوش تقریر کے دوران لائیو نشریات اور ترجمے کے مائکروفون بند کئے جانے پر سسٹم کی خرابی کا بہانہ بنایا گیا لیکن در حقیقت امریکہ اور اسرائیل یہ نہیں چاہتے تھے کہ انکی بات دنیا تک پہنچ سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲