اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نو منتخب مرکزی صدر نے اپنی تنظیمی مصروفیات کا آغاز کر دیا۔ تہور حیدری نے جامعتہ المنتظر میں وفاق المدارس شیعہ کے مرکزی رہنماء اور جامعتہ المنتظر کے پرنسپل علامہ قاضی نیاز حسین نقوی اور بزرگ عالم دین علامہ سید ریاض حسین نجفی سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر قاضی نیاز نقوی کا کہنا تھا کہ آئی ایس او کی مسئولیت ایک اہم اور بڑی ذمہ داری ہے، یہ خدا کا لطف و کرم ہے کہ آپ پر یہ عنایت ہوئی، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ملت کے باشعور طلباء کی تربیت کے لئے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ آئی ایس او ملت تشیع کی صف اول کی تنظیموں میں سے ایک ہے، اس کی بنیادوں میں شہداء کا خون اور بزرگ و مجاہد علماء کی بے نظیر خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او کے نو منتخب صدر سے امید کرتا ہوں کہ وہ آئی ایس او کے استقلال کو ہمیشہ محفوظ رکھتے ہوئے صرف اور صرف خدا کی رضا کیلئے کام کریں گے، تنظیم کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے، امام خمینی، رہبر معظم اور علامہ صفدر نجفی مرحوم نے بھی ہمیشہ خدا کی خوشنودی کی کیلئے ملت تشیع کی خدمت کی۔
اس موقع پر مرکزی صدر تہور حیدری کا کہنا تھا کہ آئی ایس او نے ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دی ہے بعد ازاں بزرگ شیعہ عالم دین علامہ ریاض نجفی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تہور حیدری کو آئی ایس او کا مرکزی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مرکزی صدر تہور حیدری نے مریم ٹرسٹ کے چئیرمین آغا عباس قزلباش سے ملاقات کی اور کنونشن کے موقع پر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے مرقد پر انتظامی امور میں بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سابقہ مرکزی صدر آئی ایس او اطہر عمران بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس او شہداء کی امانت ہے ہم خدائے لاشریک کے شکر گزار ہیں کہ اس امانت کو محفوظ ہاتھوں میں منتقل کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور انشاءاللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر چئیرمین مریم ٹرسٹ آغا عباس قزلباش کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایس او کے کارکنان کے سپاس گزار ہیں جن کے تعاون کی بناء پر کامیاب کنونشن کا انعقاد ممکن ہوا۔ آئی ایس او ملت تشیع کا روشن چہرہ ہے، شہید کے مرقد پر کنونشن کا منعقد ہونا ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس موقع پر سابق رہنماء آئی ایس او احسن نقوی اور شکیل اصغر بھی موجود تھے۔
.....
/169