18 ستمبر 2014 - 14:31
بنگلادیش، جماعت اسلامی کے رہنما کی سزائے موت، عمر قید میں تبدیل

بنگلا دیش کی عدالت عظمی نے 1971 کے جنگی مجرم اور جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین سعيدی کی سزائے موت کو یہ کہتے ہوئے عمر قید میں تبدیل کر دیا کہ انہیں اب پوری زندگی جیل میں رہنا ہوگا۔ چیف جسٹس مزمل حسین کی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  بنگلا دیش کی عدالت عظمی نے 1971 کے جنگی مجرم اور جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین سعيدی کی سزائے موت کو یہ کہتے ہوئے عمر قید میں تبدیل کر دیا کہ انہیں اب پوری زندگی جیل میں رہنا ہوگا۔ چیف جسٹس مزمل حسین کی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔
مزمل حسین کی سربراہی میں عدالت عظمی کی پانچ رکنی بنچ نے اکثریت سے فیصلے کا اعلان لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنے جج اس فیصلے کے مخالف تھے۔  گزشتہ سال فروری میں بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔  ٹریبونل کے فیصلے سے ملک کی تاریخ میں فسادات پھیل گئے تھے۔ جماعت اسلامی کے اعلی رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے 1971 میں بنگلا دیش کی آزادی کی مخالفت کرتے ہوئے مبینہ طور پر پاکستانی فوجیوں کا ساتھ دیتے ہوئے البدر والشمس جیسے ملیشیا گروہ تشکیل دیئے تھے۔
ٹریبونل نے سعيدي کو چھ اہم الزامات کا ملزم قرار دیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے قتل، عصمت دری جیسے تین الزامات کو صحیح قرار دیا تاہم قتل عام کے الزامات سے انہیں آزاد کر دیا۔
عدالت کے اس فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل محب عالم نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اپيلي بینچ کا فیصلہ ان کے لیے مایوس کن ہے کیونکہ انہیں امید تھی کہ عدالت عظمی ٹریبونل عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھے گی۔
.......

/169