11 ستمبر 2014 - 12:18
داعش اسلامی تنظیم نہیں ہے/ داعش کے ہاتھوں بھینٹ چڑھنے والے اکثر مسلمان ہیں+تصاویر

امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ اس ملک کی فضائیہ داعش کے ٹھکانوں پر حملہ کرے گی وہ چاہے جہاں کہیں بھی ہوں۔ اور اس ملک کی اتحادی طاقتیں اس گروہ کے خلاف زمینی جنگ میں حصہ لے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق براک اوباما نے داعش سے مقابلے کے لئے امریکہ کی اسٹراٹیجی کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کوئی اسلامی تنظیم نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب بے گناہوں کے قتل کو جائز نہیں سمجھجتا اور داعش کے ہاتھوں بھینٹ چڑھنے والے اکثرمسلمان ہیں۔ اوباما نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یقینا داعش کوئی حکومت نہیں ہے کہا کہ داعش عراق میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ تھا جس نے شام اور عراق کی سرحدوں کے دونوں طرف زمین ہتھیانے کےلئے شام کی داخلی جنگ سے غلط فائدہ اٹھایا۔
براک اوباما نے داعش کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے دو امریکی صحافیوں کے بارے میں کہا کہ جیمز فولي اور اسٹیون سا ٹلاف کو مغرب کے حمایت یافتہ اوربقول ان کے اعتدال پسند گروہوں نے اغوا کیا تھا جنہیں بعد میں اپنی وفاداری ثابت کرنے یا پیسوں کے عوض داعش کو سونپ دیا تھا۔
امریکی صدر نے داعش اور اس گروہ میں بڑی تعداد میں مغربی باشندوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے خطرے کے بارے میں کہا کہ اس وقت داعش شام اور عراق سمیت پورے مشرق وسطی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ براک اوباما نے کہا کہ اگراس دہشت گرد گروپ کو کنٹرول نہیں کیا گیا تو یہ امریکہ سمیت پوری دنیا کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے امریکہ، جس نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ وہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئي حکمت عملی نہيں رکھتے کہا کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت داعش کو کمزور اورآخرکار اسے ختم کردے گا۔
امریکی صدر نے داعش کے سلسلے میں اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اور اگراسے داعش کےخلاف شام میں بھی کاروائي کرنی پڑے تو وہ اس میں بھی پس وپیش نہيں کرےگا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس بارے میں لکھا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں دو امریکی صحافیوں کے سر قلم کئے جانے کے بعد امریکہ میں داعش کے خلاف امریکی حملوں کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وہائٹ ہاوس نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق کی فوجی توانائیوں کو بڑھاوا دینے کے لیے واشنگٹن نے ۲۵ میلین ڈالر حکومت بغداد کو مدد کے طور پر دئے ہیں۔


.......

/169+242