22 اگست 2014 - 15:50
شام، فوج کی کاروائی میں 150 سے زائد دہشت گرد ہلاک

شام کے مختلف علاقوں ميں فوج اور عوامي رضاکار فورس جيش الشعب کي کارروائيوں ميں ڈيڑھ سو سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوگئے ہيں ۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے علاقے رقہ ميں فوج اور عوامي رضاکار فورس کے جوانوں کے ايک حملے ميں تکفيري دہشتگرد گروہ داعش کے کم سے کم ايک سو چاليس مسلح دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔

اس رپورٹ کے مطابق شام کي فوج نے اسي طرح شہر الرقہ کے مضافات ميں واقع الطبقہ نامي علاقے ميں ايک فوجي ہوائي اڈے پر قبضہ کرنے کے لئے داعش کے ايک وسيع حملے کو ناکام بناديا ہے۔ رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ داعش کے تقريبا تين سو مسلح افراد نے مذکورہ فوجي ہوائي اڈے پر قبضہ کرنے کي کوشش کي ليکن انہيں شام کي فوج اور عوامي رضاکار فورس کي مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد پسپائي اختيا کرني پڑي ۔ اس کارروائي ميں داعش کے بہت سے دہشتگرد مارے گئے ۔ رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ فوج کے جوابي حملے کے بعد داعش کے دہشتگرد اپنے بھاري اسلحے چھوڑ کے بھاگ گئے ۔

ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ ادلب کے مضافات ميں بھي مغرب اور علاقے کي رجعت پسند حکومتوں کے کے حمايت يافتہ دہشتگرد گروہوں اور فوج کے درميان زبردست لڑئي ہوئي ہے ۔ اس لڑائي ميں فوج نے ادلب کے دو مضافاتي علاقوں ، قميناس اور البراغيتي کو آزاد کراليا ۔ شام کي فوج اور جيش الشعب کي اس مشترکہ کاروائي ميں بھي درجنوں دہشتگر ہلاک اور زخمي ہوگئے اور بہت سے گرفتار کرلئے گئے ۔

دوسري جانب داعش کے مسلح دہشتگردوں نے حلب کے شمال ميں کرسان منبج نامي گاؤں پر حملہ کرکے چاليس عام شہريوں کو اغوا کرليا ۔ داعش نے ان افراد پر دوسرے تکفيري دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ کے لئے جاسوسي کرنے کا الزام لگايا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ داعش اور جبہت النصرہ دونوں ہي سعودي حمايت يافتہ اور القاعدہ سے وابستہ تکفيري دہشتگرد گروہ ہيں ليکن ، لوٹ کے مال اور مقبوضہ علاقوں کي تقسيم پر اختلاف کے بعد دونوں ايک دوسرے کے مخالف ہوچکے ہيں اور شام ميں ان دونوں دہشتگرد گروہوں کے درميان کئي بار خونريز جنگ ہوچکي ہے ۔

داعش کے مسلح دہشتگردوں نے اسي طرح حماہ کے مضافاتي علاقے السلميہ پر حملہ کرکے ايک خاندان کے سبھي افراد کا قتل عام کرديا جن ميں عورتيں اور بچے بھي شامل ہيں ۔ آخري اطلاع ملنے تک اس سيکٹر پر فوج اور داعش کے درميان لڑائي جاري تھي ۔ اس لڑائي ميں عوامي رضاکار فورس جيش الشعب کے جوانوں کے ساتھ ہي السلميہ کے عام شہري بھي فوج کے ساتھ داعش کے خلاف جنگ ميں شريک بتائے گئے ہيں ۔
دوسري طرف امريکا نے اعتراف کيا ہے کہ شام ميں پچاس سے زائد ملکوں کے دہشتگرد بشار اسد کي حکومت کے خلاف جنگ ميں مصروف ہيں ۔
امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان ميري ہارف نے ايک بيان ميں کہا ہے کہ دنيا کے پچاس سے زائد ملکوں سے ہزاروں دہشتگرد بشار اسد کي حکومت کے خلاف جنگ کے لئے شام گئے ہيں ۔
ميري ہارف نے کہا کہ مختلف ملکوں کے کم سے کم بارہ ہزار دہشتگرد اس وقت شام ميں موجود ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ دنيا کے پچاس سے زائد ملکوں سے شام جانے والے دہشتگردوں کي اکثريت نے داعش اور ديگر انتہا پسند دہشتگرد گروہوں ميں شموليت اختيار کي ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتي ہيں کہ اس وقت شام ميں پچاس ملکوں کے کم سے کم بارہ ہزار جنگجو موجود ہيں جن ميں امريکا کے بھي کچھ انتہا پسند دہشتگرد شامل ہيں ۔
امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان ميري ہارف نے شام ميں موجود ا مريکي دہشتگردوں کي صحيح تعداد نہيں بتائي ليکن امريکا کے ايک اور عہديدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا ہے کہ اس وقت شام ميں بشار اسد کي حکومت کے خلاف برسرپيکار انتہا پسند دہشتگرد گروہوں ميں امريکا کے تقريبا سو انتہا پسند شامل ہيں ۔ 

.......

/169