اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہسپانوی حکومت نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان دونوں لڑکیوں کو ہفتے کے روز مراکش جانے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا ہے۔ان میں سے ایک کی عمر چودہ سال اور دوسری لڑکی کی انیس سال ہے۔وہ عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامی (داعش) میں شامل ہونا چاہتی تھیں۔اس جنگجو گروپ نے عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرکے اپنی عمل داری قائم کر رکھی ہے۔
ہسپانوی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپین میں جہاد کے لیے بھرتی کی گئی ان دونوں لڑکیوں کی گرفتاری ایک منفرد واقعہ ہے۔ان میں سے کم سن لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے اور بڑی عمر والی کا نام فوزیہ علال محمد بتایا گیا ہے۔یہ دونوں ہسپانوی شہری ہیں۔
ہسپانوی حکام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ان دونوں لڑکیوں نے سیاہ نقاب اوڑھ رکھے ہیں اور ان کو ایک چھوٹے طیارے سے سکیورٹی اہلکاروں کی معیت میں لے جایا جارہا ہے۔ان دونوں کو سپین کے سرحدی علاقے ملیلا میں بنی انذار بارڈر کراسنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ملیلا اور سپین کے ایک اور شہر سیوٹا کی مراکش کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق یہ دونوں لڑکیاں مراکش کے سرحدی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہی تھیں۔وہاں سے جہادیوں کے نیٹ ورک نے انھیں شام اور عراق کے درمیان واقع شورش زدہ علاقے میں منتقل کردینا تھا جہاں انھوں نے خودساختہ دولت اسلامی کی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونا تھا۔
.......
/169