ابنا: علامہ طاہر القادری نے خطاب میں کہا کہ گیارہ دن گزرنے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ان کی ایف آئی آر تک نہیں درج کی گئی ۔ پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک نکاتی ایجنڈے پر آل پارٹیز کانفرنس میں بہت سی سرکردہ جماعتیںاور شخصیات شریک ہیں، تاہم پیپلزپارٹی ، اے این پی اور جے یو آئی س نے شرکت سے معذرت کی ۔افتتاحی خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ کے روز ان کا ایک بھی کارکن مسلح نہ تھا۔ پولیس نے ان پر سیدھی گولیاں چلائیں اور پھر نہ کوئی ملزم گرفتار ہوا نہ کسی کو برطرف کیا گیا ۔ داد رسی کےلیے ایف آئی آر متاثرین کی ایف آئی آر تک درج نہ کی گئی ۔شفاف تفتیش کےلیے مسلم لیگ ق سمیت کئی جماعتوں نے وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کامطالبہ کیا۔ چودھری شجاعت کا کہنا تھاکہ اگر آج اس واقعے پر درست اقدام نہ کیے تو مستقبل میں کوئی جماعت محفوظ نہیں رہے گی۔ تحریک انصاف نے ماڈل ٹاؤن واقعے کے جوڈیشل کمیشن کو مسترد کردیا اور کہا کہ افسران پرحکومت پنجاب کا دباؤ ہے، شفاف تحقیقات نہیں ہوسکتیں۔ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس سازش کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز پرہی یہ سانحہ کیوں رونما ہوا۔شیخ رشید نے کہاکہ انہیں حیرت ہے کہ وزیراعلیٰ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا نوٹس تو لیتے ہیں لیکن انہیں ماڈل ٹاؤن میں پندرہ گھنٹے تک جاری اتنے بڑے واقعہ کا پتا ہی نہیں چلا۔
.......
/169