25 جون 2014 - 13:09
 محبوبہ مفتی: کشمیر کے حالات سے نوجوان ملی ٹینٹ بننے پر مجبور

محبوبہ مفتی نے ’عمرسرکارکے انکوائری احکامات کوسراب‘سے تعبیرکرتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہا کہ 5منٹ کے واقعے کی تحقیقات میں5 ماہ یا 5 سال کاوقت لینامضحکہ خیز ہے۔

ابنا: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن اور ممبر پارلیمنٹ محبوبہ مفتی نے ’عمرسرکارکے انکوائری احکامات کوسراب‘سے تعبیرکرتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہا کہ 5منٹ کے واقعے کی تحقیقات میں5 ماہ یا 5 سال کاوقت لینامضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے مزاحمتی لیڈرشپ پر قدغن اور نوجوانوں کی ہراسانی کواشتعال انگیزی قراردیتے ہوئے انکشاف کیاکہ بار بار کی تنگ طلبی تعلیم یافتہ نوجوانوں کوملی ٹنٹ بننے پرمجبور کر رہی ہے۔پی ڈی پی صدر نے بجلی ،پانی اورراشن کی عدم دستیابی پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہ مبارک اور جموں میں شدیدگرمی کے پیش نظر روزمرہ سہولیات و ضروریات کی فراہمی کویقینی بنانے پر زور دیا ۔
محبوبہ مفتی نے سرکاری رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پرسخت تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری نوجوان ظلم و زیادتیوں ، ہراسانیوں اور تنگ طلبی کے نتیجے میں ملی ٹنٹ بن جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پولیس و فورسز زیادتیوں کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان جنگجو بن رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا جنگجوگروپوں میں شامل ہوناایک انتہائی خطرناک صورتحال کا غماز ہے۔انہوں نے کہا کہ جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہوا کرتی ہیں ، ان ہاتھوں میں پھر بندوق آ جاتی ہے جو کسی بھی طور ٹھیک نہیں ۔اس موقعہ پر محبوبہ مفتی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ عراق کے بعد جب افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج کا انخلاء ہو گا تو اس کے جموں و کشمیر پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر محبوبہ مفتی نے مزاحمتی لیڈران کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کے دور میں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کے علاوہ دیگر علیحدگی پسند لیڈران کو نہ تو گھروں میں بند رکھا گیا اور نہ پولیس تھانوں میں جبکہ بقول ان کے موجودہ سرکار نے ان تمام علیحدگی پسند لیڈران کی پر امن سرگرمیوں پر مکمل قدغن لگانے کے ساتھ ساتھ نوجوان مخالف اقدامات اٹھا کر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔

.......

/169