اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا: کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی رئیس تشخیص مصلحت نظام نے اتوار کو پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے ہونے والی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ افغانستان کی پالیسی مبہم ہے لیکن ایران و پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوبارہ افغانستان میں داخلی جنگ نہ ہونے دیں تاکہ افغانستان کے مظلوم عوام قربانی کی نذرہونے سے محفوظ رہیں ۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی رئیس تشخیص مصلحت نظام نے اسلامی ملکوں میں دہشگردی کے بڑھتے جرائم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئۓ کہا دہشگرد اور ان کے حامی اسلامی ملکوں کے دشمن ہیں اور عقلمند مسلمانوں کو چاہیئے کہ اسلام پر لگنے والے اس موذی کینسر جیسے الزام کو اسلام سے دور کریں اور اسلامی دنیا میں امن و سلامتی کا ماحول پیدا کریں۔
آیت اللہ ہاشمی نے عراق و شام کی صورتحال کو عالم اسلام کے لئے افسوس کا مقام ظاہرکرتے ہوئے کہا ایسے مسائل جس سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اس کے لئے بے انتہا مال و دولت خرچ کرکے اسلامی ممالک میں تفرقہ ایجاد کرتے ہيں جس کے نتیجے میں بے گناہ عوام کا قتل عام ہوتا ہے ۔
اس ملاقات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنے دورہ ایران پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایران و پاکستان کے تعلقات دیرینہ اور بہترین وعمدہ تعلقات پر استوار ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارتی ، اقتصادی اور صنعتی امور کے فروغ کے لئے بہت زيادہ امکانات موجود ہیں۔
واضح ہو کہ پاکستان کے وزیراعظم دوروزہ دورے پر اتوار کو تہران پہنچے ہیں
.......
/169