26 جنوری 2014 - 20:30
حمص معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عسکریت پسندوں کی شرائط

شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے جنیوا-2 امن مذاکرات کے دروان ہوئے نئے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے چند شرائط عائد کر دی ہیں۔

ابنا: جنیوا-2 معاہدے کے تحت حکومت نے محاصرہ شدہ حمص شہر کے علاقوں سے خواتین اور بچوں کو باہر نکالنے پر اتفاق کیا ہے۔

اتوار کو شامی حکومت اور غیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا۔

جنیوا مذاکرات میں ثالث اور شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ حمص شہر میں پھنسے خواتین اور بچوں کو وہاں سے محفوظ نکلنے کی اجازت دینے کے لیے شامی حکومت رضامند ہو گئی ہے۔

ابراہیمی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وفد نے ہم سے کہا ہے کہ اس محاصرہ شدہ علاقے سے خواتین اور بچوں کو فوری طور پر باہر نکالا جا سکتا ہے۔

اخضر براہیمی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو تو حکومت فوری طور پر شہر چھوڑنے کی اجازت دے دے گی لیکن حکومت نے بالغ مردوں کی فہرست طلب کی ہے جو حمص شہر چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد تو نہیں ہیں.

شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد کا کہنا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح باغی گروہ حمص کے علاقوں سے خواتین اور بچوں کو باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان خواتین اور بچوں کو باہر نکالنے کے لیے گزشتہ دو برس سے میں ذاتی طور پر کوششیں کر رہا ہوں، لیکن مسلح گروہوں نے ہمیشہ اس میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، حتی وہ کسی ایک شخص کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

حمص میں سرگرم عسکریت پسندوں نے سنہ 2012 سے محصور علاقے کے محاصرے کے مکمل خاتمے اور آزادہ شدہ افرادہ کو گرفتار نہیں کیے جانے کی ضمانت دینے کی شرائط عائد کی ہیں۔

.......

/169