21 جنوری 2014 - 20:30
آیت اللہ تسخیری: ایران اور یمن کا باہمی تعاون وہابیت کے مقابلے میں مستحکم دیوار

آیت اللہ تسخیری نے ناصر کبیر بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ ایران اور یمن کے علماء کا باہمی اتفاق وہابیت کے مقابلے میں مستحکم دیوار بن سکتا ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن آیت اللہ تسخیری نے صوبہ مازندران کے شہر محمود آباد میں منعقد ہوئی ناصر کبیر عالمی کانفرنس جس میں علمائے یمن خصوصی مہمان تھے میں کہا: ہمیں امید ہے  کہ  یہ کانفرنس ایران اور یمن کے علماء کے درمیان باہمی تعاون کے لیے ایک مثبت قدم ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ علماء یمن کا اس ملک میں حاضر ہونا وہابیت کے پروپیگنڈوں کے مقابلے میں مستحکم دیوار ہوگی۔انہوں نے مزید کہا: تحریک حسن بن زید بہت طاقتور تحریک تھی اور تقریبا ۴۰ سال یہ تحریک طبرستان میں جاری رہی، اس کے بعد ناصر کبیر نے چوتھی صدی کے شروع میں حکومت علوی کا قیام کیا اور ۳۰۴ ہجری میں وہ وفات پا گئے۔آیت اللہ تسخیری نے حکومت علوی کے بارے میں کہا: چوتھی صدی ہجری میں اس علوی حکومت نے پورے جہان اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ایران کے شمال میں کئی شیعہ حکومتیں وجود میں آئیں۔ ناصر کبیر نے ’’آل بویہ‘‘ پر بہت زیادہ اثر ڈالا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی۔انہوں نے مزید کہا: ایران اور عراق میں علوی اور آل بویہ شیعوں نے اور مصر میں فاطمی شیعوں نے حکومت کی اور یمن میں امام ہادی علیہ السلام کی اولاد برسر اقتدار رہے۔آیت اللہ تسخیری نے مزید تاکید کی: یہ بات کہ گزشتہ دور میں کئی مرتبہ اور کئی جگہوں پر شیعہ حکومتیں وجود میں آئیں اور اس کے بعد دیر یا جلدی ختم ہو گئیں اس کے پیچھے بہت سارے عوامل ہیں ہمیں ان عوامل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲