ابنا: امریکہ اور نیٹو کے بعض ممالک شام کے حال اور مستقبل کے بارے میں دوہری پالسی اختیا ر کیے ہوئے ہیں وہ ایک طرف تو یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور شام کے مسئلے کو سیاسی طریقہ سے حل و فصل کرنے میں پختہ عزم رکھتے ہیں لیکن عملی طور پر سعودی عرب قطر اور ترکی کے ساتھ ساز باز کرکے اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور مسلح دہشت گردوں کی حمایت کو کہ جو یورپی اسلامی اور عرب ملکوں کے ہزاروں مزدوروں پر مشتمل ہیں جاری رکھے ہوئے ہے اس رپورٹ کی بنا پر کہ جو عربی مر کز الراصد سے منقول ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن شام کے بحران کے سلسلے میں نیگیٹو کردار ادا کررہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو حالیہ تین سالوں میں بالکل نمایاں ہے اس لیے کہ ان سالوں میں بین الاقوامی اور بعض خلیج فارس کے ملکوں کے دہشت گرد افراد شام کے شہروں کی طرف رواں دواں ہیں تا کہ علاقہ اور دنیا میں خطرناک کھیل کھیل سکیں اور اسی نوعیت کا حادثہ ہم عراق اور لبنان میں بھی رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔
.......
/169