ابنا: جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جنیوا میں طے پانے والے جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد، ایک اہم اور تقدیر ساز قدم ہے۔ فرانک مایر نے جنیوا کے جوہری سمجھوتے کو صبر و عزم و حوصلے اور شفاف مواقف کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اس سمجھوتے کی شقوں پر عملدرآمد کی بنیاد پر، ضرورت اس بات کی ہے کہ بعد کے مرحلے میں ایک جامع سمجھوتے کے حصول کیلئے ایران کے ساتھ تقدیر ساز مذاکرات شروع کئے جائیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جنیوا کے جوہری سمجھوتے پر بیس جنوری سے پہلے مرحلے کے طور پر عملدرآمد شروع ہورہا ہے جو ایران کے جوہری مذاکرات کے پرامن حل اور جامع مذاکرات کے آغاز کیلئے پہلا قدم شمار ہوتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے اعلی جوہری مذاکراتکار عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ بیس جنوری سے جنیوا کے جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد شروع ہوجائےگا۔ دریں اثنا اقتصادی امور کے ایک ایرانی ماہر سعید لیلاز نے کہا ہے کہ جنیوا کے جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد سے ایران کی معاشی منڈی کی رونق بحال ہونا شروع ہوجائیگی۔ اس اقتصادی ماہر نے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا کے جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد، ایران کی معاشی منڈی میں تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 496503
جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جنیوا میں طے پانے والے جوہری سمجھوتے پر عملدرآمد، ایک اہم اور تقدیر ساز قدم ہے۔