ابنا: ایران کے اس رکن پارلیمنٹ نے مختلف مسائل سے متعلق امریکہ کی فریب کاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان حالیہ طے پانے والے جوہری سمجھوتے کے دائرے میں اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی کرکے کہ وہ اب ایران کے خلاف آئندہ چھے مہینوں کے دوران کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا، ایران کے سلسلے میں اپنی ایک اور فریب کاری کا ثبوت پیش کیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن محمد اسماعیل کوثری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکی حکام ہر مسئلے میں صرف اپنے مفادات کی تاک میں رہتے ہیں اور کسی اور کی انھیں کوئی پرواہ نہیں رہتی، ایران کے جوہری مذاکرات کاروں سے اپیل کی کہ وہ جوہری مذاکرات کے آئندہ دور میں اور زیادہ حسّاسیت و ہوشیاری اور پختہ عزائم کے ساتھ شرکت کریں۔واضح رہے کہ تہران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان حال ہی میں جنیوا میں ایک سمجھوتہ طے پایا ہے تاکہ جوہری بحران کے حتمی حل کی طرف آگے بڑھا جاسکے مگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا اقدام کرکے اس جوہری سمجھوتے کی بھی خلاف ورزی کرنا شروع کردیا ہے۔واضح وہے کہ ایران کے وزیر خارجہ سے امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں محمد جواد ظریف نے اس سلسلے میں تہران کی برہمی کا اظہار کیا ہے۔
.......
/169