شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ امیر حسین جعفری نے کہا ہے کہ کراچی کے امن و امان کا تعلق صرف کراچی سے نہیں بلکہ پورے ملک سے ہے۔ جہاد افغانستان کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ کراچی ہے، جہاں پر معصوم لوگوں کا قتل عام جاری ہے، بالخصوص ملت تشیع کے افراد کو چن چن کر بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں مولانا دیدار جلبانی کی جاں گداز شہادت کا سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہمارے حکمران جانتے بوجھتے ہوئے تساہل سے کام لے رہے ہیں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا رہے۔ جندا للہ نامی گروپ نے مولانا دیدار جلبانی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ جس کا تعلق طالبان سے ہے ، جو لاکھوں انسانوں کے قتل میں ملوث ہیں، جبکہ ایک انسان کا قتل انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ہمارا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ دیدار جلبانی کے قاتلوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ تاکہ سوگوار خاندان اور ملت کے لئے تشفی و تسلی کا باعث بنے۔ علامہ امیر حسین جعفری نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے رہنما کے قتل میں سعودی انٹیلی جنس ملوث ہے۔ حزب اللہ کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں، جس کی بناء پر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے سعودی عرب سے احتجاج کیا ہے۔ اس واقعہ میں سعودی عرب کا شیعہ دشمن وہانی گروپ ملوث ہے۔ دمشق میں بھی جو کیا دھرا ہے اس میں سعودی عرب ملوث ہے۔ اسی طرح بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں بھی سعودی انٹیلی جنسکے ملوث ہونے شواہد ملے ہیں۔ پاکستانی اخبارات کے مطابق ہمارے ملک میں بھی فرقہ واریت کے فروغ کے لئے سعودی عرب پیسہ لگا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مدارس میں دہشت گرد تیار کئے جارہے ہیں جنہوں پاکستان کا سکون غارت کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 486455
رہنماء ایس یو سی کا اسلام ٹائمز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دمشق میں بھی جو کیا دھرا ہے اس میں سعودی عرب ملوث ہے۔ اسی طرح بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں بھی سعودی انٹیلی جنسکے ملوث ہونے شواہد ملے ہیں۔