3 دسمبر 2013 - 20:30
اس کمانڈر کی شہادت جس کے قتل کی آرزو عرصہ دارز سے اسرائیل کو تھی+تصاویر

حسان اللقیس حزب اللہ کے وہ شجاع اور دلیر مجاہد تھے جو اسرائیل کے لبنان پر تجاوز کرنے کے ابتدائی دنوں میں ہی حزب اللہ میں شامل ہو کر اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے میدان جہاد میں اتر آئے تھے۔ مسلسل ۳۰ سال سے امریکہ اور اسرائیل لمحہ بلمحہ اس تلاش میں تھے کہ کب حسان اللقیس پر اپنا زہر انڈھیلیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ لبنان کی اسلامی مزاحمت کے کمانڈر حسان اللقیس کو گزشتہ شب اسرائیلی مزدوروں نے بیروت میں ان کے گھر کے باہر شہید کر دیا۔حسان اللقیس حزب اللہ کے وہ شجاع اور دلیر مجاہد تھے جو اسرائیل کے لبنان پر تجاوز کرنے کے ابتدائی دنوں میں ہی حزب اللہ میں شامل ہو کر  اسرائیل کو ناکوں چنے چبوانے میدان جہاد میں اتر آئے تھے۔ مسلسل ۳۰ سال سے امریکہ اور اسرائیل لمحہ بلمحہ اس تلاش میں تھے کہ کب حسان اللقیس پر اپنا زہر انڈھیلیں۔غاصب صھہیونیوں کے چنگل سے جنوبی لبنان کی آزادی میں حسان اللقیس کا کردار بہت نمایاں تھا۔

شہید حسان اللقیس

شہید حسان کا بیٹا شہید علی اللقیس جو ۳۳ روزہ جنگ میں شہید ہوا

کچھ سال پہلے ایک امریکی رائٹر نے اپنی کتاب میں حسان اللقیس کے بارے میں لکھا:جتنی آسانی سے ہم ایک گلاس پانی کا پیتے ہیں اتنی آسانی سے حسان اللقیس امریکہ میں آتا ہے اور لبنان کی اسلامی مزاحمت کے لیے پیشرفتہ ترین فوجی اسلحہ اور سازو سامان لے کر چلا جاتا ہے۔اسرائیل کی موساد جاسوسی ایجنسی کے "سابق سربراہ Meir Dagan نے کچھ سال پہلے اپنی ریٹائرمنٹ کی تقریب میں تقریر کے دوران براہ راست حسان اللقیس کا نام لے کر یہ کہتا تھا کہ موساد کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے حسان کو گرفتار یا اس کا مڈر کرنے کی آرزو میری آرزو ہی رہ گئی۔مگر یاد رہے کہ عماد مغنیہ اور حسان اللقیس کی شہادتوں سے حزب اللہ متاثر تو ضرور ہوئی مگر کمزور نہیں پڑی اور نہ پڑ سکتی ہے اس لیے کہ حزب اللہ کے پاس عماد مغنیہ اور حسان اللقیس جیسے تربیت یافتہ ہزاروں مجاہدین موجود ہیں جو اسرائیل جیسے غاصبوں اور ظالموں کا قلع قمع کر کے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲